نزلہ زکام مردوں اور عورتوں پر الگ الگ اثر کیوں ڈالتا ہے؟ سائنس نے بتا دیا

Jan 11, 2026 | 13:16:PM
نزلہ زکام مردوں اور عورتوں پر الگ الگ اثر کیوں ڈالتا ہے؟ سائنس نے بتا دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سرد موسم کی شدت کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور فلو تیزی سے پھیل رہا ہے۔

 اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری مردوعورت سب کو ایک ہی طرح متاثر کرتی ہے۔

 نئی تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ مردوں اور عورتوں میں اس کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق عورتوں کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف زیادہ تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔

 خواتین کے اندر موجود ایک اہم ہارمون ایسٹروجن، مدافعتی خلیات کی سرگرمی اور اینٹی باڈیز کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، جس سے انفیکشن جلد ختم ہونے میں مدد ملتی ہے۔

دوسری طرف اس کے ساتھ جسم میں سوزش بھی بڑھ جاتی ہے، اسی لیے عورتوں کو زیادہ تھکن، بدن درد اور سر درد جیسی شکایات زیادہ دن تک رہ سکتی ہیں۔

 دوسری طرف مردوں میں موجود ہارمون ٹیسٹوسٹیرون جسم کی سوزش کو کم کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے شروع میں علامات ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں:سردیوں میں موبائل کی بیٹری جلد ختم کیوں ہو جاتی ہے؟

 یہی وجہ ہے کہ مرد اکثر بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور دیر سے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات مردوں کو تیز بخار ہو جاتا ہے۔

 یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اپنی صحت پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور جلد علاج کرواتی ہیں، جبکہ مرد بیماری بڑھنے تک انتظار کرتے رہتے ہیں۔

 اسی وجہ سے ’’مین فلو‘‘ کا مذاق بنایا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں نزلہ زکام زیادہ شدت اور زیادہ عرصے تک برداشت کرتی ہیں۔

تحقیقی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین میں نزلہ زکام کی شدت وقت کے ساتھ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

 ایک مطالعے میں، جس میں انٹرو وائرس، کورونا وائرس اور انفلوئنزا کے مریض شامل تھے۔

 خواتین میں شدید تھکن اور جسمانی درد جیسی علامات ظاہر ہونے کا امکان مردوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ پایا گیا اور یہ علامات ابتدائی چند دنوں کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں۔