نورِ سحر میں''سورۃ الضحیٰ کے تفسیری معارف ''بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ اور صاحبِ کتاب ﷺ کی حفاظت کا ذمہ اپنے ذمے لے رکھا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف دینی و فکری پروگرام نورِ سحر میں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " سورۃ الضحی کے تفسیری معارف " تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ اور صاحبِ کتاب ﷺ کی حفاظت کا ذمہ اپنے ذمے لے رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کفارِ مکہ، بالخصوص ابو جہل جیسے افراد نے یہ طعنہ دیا کہ ’’آپ ﷺ کو آپ کے رب نے چھوڑ دیا ہے‘‘ تو اس الزام میں بھی اس بات کا غیر مستقیم اعتراف موجود ہے کہ وحی حقیقتاً اللہ کی طرف سے نازل ہوتی تھی۔
سورۃ الضحیٰ دراصل نبی کریم ﷺ کی دلجوئی اور اُن کی ناموس کی حفاظت کے لیے نازل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ نے ہر دور میں رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی حفاظت اپنے خون سے کی ہے، اور یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا، جیسا کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ ’’یہ امت اُس وقت تک باقی رہے گی جب تک رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرتی رہے گی۔‘‘
مفتی ڈاکٹر محمد یونس رضوی نے کہا کہ سورۃ الضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنی ذاتِ اقدس کا ذکر کیا، پھر حضور نبی کریم ﷺ کی شان، مقام، رفعت اور عطاؤں کو بیان فرمایا، اور آخر میں امت کے ساتھ تعلق اور طرزِ عمل کو واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سورت میں یتیم، مسکین اور کمزور طبقے کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی ذکر کیا: "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا قیامت کے دن اس طرح ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں (قریب قریب)"۔
انہوں نے یہ اہم نکتہ بھی بیان کیا کہ قرآن میں جہاں انبیاء کی عبادات اللہ کی رضا کے لیے ذکر کی گئی ہیں، وہاں نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں انداز مختلف ہے، جب رسول اللہ ﷺ عبادت کرتے ہیں تو وہاں عبادت اللہ کی ہوتی ہے مگر مرضی مصطفی ﷺ پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ نکتہ رسول اللہ ﷺ کے خصوصی مقام و مرتبے کو واضح کرتا ہے۔
پروفیسر میاں مستفیض احمد نقشبندی نے سورت کے الفاظ ضحی اور لیل کی تفسیری جہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’ضحی‘‘ دن کے تھوڑے سے وقت کو کہتے ہیں، جبکہ ’’لیل‘‘ پوری رات پر محیط ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تشبیہ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ رات (لیل) ساری مخلوق کی مانند ہے، اور دن کا ابتدائی وقت (ضحی) نبی کریم ﷺ کی ذات کی مانند ہے، جس نے اپنی روشنی سے سارے اندھیرے مٹا دئیے۔
مولانا امیرحمزہ نے سورت الضحی کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ بعثتِ نبوی ﷺ وہ عظیم واقعہ ہے جس نے کائنات کی تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیا اور آفتابِ نبوت کی کرنوں سے جہالت کا زوال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سورۃ الضحیٰ ایسی سورت ہے جو مؤمن کے دل کو نورِ ایمان سے منور کر دیتی ہے۔
انہوں نے نہایت دلنشین انداز میں واضح کیا کہ ان 9 آیات میں ہر تین آیات کا ایک الگ روحانی پیغام اور محبتِ الٰہی کا راز پوشیدہ ہے، جو قاری کو اللہ کی قربت کے احساس سے بھر دیتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو یتیم پیدا کیا ، لیکن 'یتیم کرنے' کی نسبت آپ کی طرف کیوں نہ کی؟ اس سوال میں اللہ کی شانِ رحمت اور ادب کا ایک گہرا راز پنہاں ہے، جو محبتِ الٰہی کی معراج دکھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ حضرتِ رسول ﷺ کی زبان سے نکلا، اللہ نے اسے پورا کر کے دکھایا یہ قرآن و سنت کی صداقت کا ثبوت ہے۔