بچت پر زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ

Mar 09, 2026 | 16:44:PM
بچت پر زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک ) زکوٰۃ دین اسلام کی ارکان میں تیسرا بنیادی رکن ہے اور یہ ایک مالی عبادت ہے جو صاحبِ نصاب مسلمانوں پر سال میں ایک بار  غریبوں اور مستحقین کو دینا فرض ہے۔

 جس مسلمان عاقل بالغ شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم (جو بنیادی ضرورت سے زائد ہو) یا مالِ تجارت موجود ہو یا ان چاروں چیزوں میں سے کسی بھی دو یا زائد کا مجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو اور وہ شخص اتنا مقروض بھی نہ ہو کہ قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر رقم باقی نہ رہےتو ایسا شخص صاحبِ نصاب شمار ہوتا ہے ، اور سال کی جس تاریخ کو بھی صاحبِ نصاب ہو، قمری اعتبار سے اس پر سال مکمل ہونے کی صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں اور ہر سال زکوٰۃ دیتے ہیں تو دیگر اموال کی زکوٰۃ نکالتے وقت آپ اپنی بچت کی زکوٰۃ بھی ادا کریں گے۔

اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں، ابھی بچت کی رقم جمع کرنا شروع کی ہے تو جب پہلی مرتبہ صاحبِ نصاب بنیں گے، اس وقت سے سال مکمل ہونے پر بھی آپ صاحبِ نصاب برقرار رہے تو آپ زکوٰۃ ادا کریں گے۔

سال پورا ہونے پر جتنی رقم بنیادی ضرورت اور قرض وغیرہ سے زائد ہو، اسی طرح سونا چاندی یا مالِ تجارت آپ کی ملکیت میں ہو تو سب کی مجموعی مالیت لگا کر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :  ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ فائنل میں روہت شرما اور اہلیہ کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل