قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ،انسانی اسمگلنگ، امیگریشن نظام سمیت دیگر اصلاحات پر تفصیلی غور

Jun 09, 2026 | 19:13:PM
قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ،انسانی اسمگلنگ، امیگریشن نظام سمیت دیگر اصلاحات پر تفصیلی غور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ، امیگریشن نظام میں اصلاحات، پاسپورٹ پالیسی، ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) میں مجوزہ ترامیم اور منشیات فروشی کے ایک اہم مقدمے سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس کے دوران کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیمی) بل 2025 کو مزید مشاورت کے لیے موخر کر دیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی سرحد پار کرنا اور دبئی، کمبوڈیا سمیت مختلف راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوششیں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اسٹڈی اور وزٹ ویزوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور بعض پاکستانی شہری تھائی لینڈ کے وزٹ ویزے پر جا کر کمبوڈیا کی سرحد عبور کرتے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق گجرات اور منڈی بہاؤالدین سمیت بعض علاقوں سے پہلی مرتبہ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد اکثر منزل اور سفری تفصیلات سے بھی مکمل آگاہ نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے مسلسل پالیسی سفارشات مرتب کر رہی ہے اور ہر پندرہ روز بعد صورتحال سے متعلق رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں بیرون ملک سے پاکستانی شہریوں کی مجموعی ڈیپورٹیشن میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔ ایف آئی اے جدید امیگریشن نظام، ایڈوانس پیسنجر انفارمیشن، پی این آر ڈیٹا، ای-گیٹس اور موبائل ایپلیکیشن پر کام کر رہی ہے تاکہ مسافروں کی پیشگی جانچ پڑتال اور سہولت کو بہتر بنایا جا سکے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ادارے نے اپنا نیا مقامی نظام متعارف کرا دیا ہے جسے نادرا اور پاسپورٹ آفس کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جبکہ جدید کنٹرول سسٹم 12 جون سے مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے متعدد پاسپورٹس کے اجرا سے متعلق پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شناختی دستاویزات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے تیسرے پاسپورٹ کے اجرا پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق بار بار پاسپورٹ گم ہونے کے دعووں کی مکمل جانچ پڑتال اور انٹرویو کے بعد ہی کسی درخواست پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ضابطۂ فوجداری میں مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور کا قانون آج بھی نافذ العمل ہے، تاہم جدید تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج، واٹس ایپ پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو قانونی فریم ورک کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق سی آر پی سی میں 55 سے زائد غیر سیاسی نوعیت کی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کا مقصد تفتیشی نظام کو بہتر بنانا، مدعی کو مؤثر انصاف فراہم کرنا اور سزا کی شرح میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کمزور تفتیش اور قانونی خامیوں کے باعث سزا کی شرح صرف 10 سے 15 فیصد کے درمیان ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی قادر پٹیل نے بیرون ملک ایئرپورٹس پر پاکستانی پارلیمنٹیرینز کو درپیش مشکلات کا معاملہ بھی اٹھایا اور حکومت سے اس حوالے سے سفارتی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا، منشیات فروشی کے مقدمے میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی سے متعلق اینٹی نارکوٹکس فورس کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملزمہ کے موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات سائبر کرائم ونگ کی تحویل میں ہیں اور ان کی فرانزک رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی۔

حکام کے مطابق ملزمہ 2019 کے ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دی جا چکی ہے، جبکہ اس کا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثے پہلے ہی منجمد کیے جا چکے ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے کیس سے متعلق تفصیلی تحریری رپورٹ بھی قائمہ کمیٹی میں جمع کرا دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں کمیٹی ارکان نے کیس کی مختلف جہتوں پر سوالات اٹھائے اور متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی۔

چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے یہ معاملہ کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا، جس کے بعد پنجاب حکومت سمیت متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کی گئیں۔

چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بھی اس کیس کو نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق کیس میں راجہ پرویز اشرف کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نبیل گبول نے کہا کہ انمول پنکی کا معاملہ معمولی نوعیت کا نہیں اور اس کیس کے مختلف پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ کون عناصر ہیں جو انمول پنکی کو بعض سیاسی شخصیات کے نام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

ڈی جی اے این ایف سندھ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انمول پنکی کے رابطوں کا ریکارڈ سائبر کرائم ونگ کے پاس موجود ہے، جبکہ اے این ایف نے 2019 میں بھی ان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا۔

نبیل گبول نے دعویٰ کیا کہ انمول پنکی گزشتہ کئی برسوں سے منشیات کے کاروبار سے منسلک رہی ہے اور حالیہ معاملہ ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد نمایاں ہوا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ملزمہ کس کی تحویل میں ہے اور آیا اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال تو نہیں کیا جا رہا۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ ملکی ادارے قانون اور ضابطوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ تاہم اس پر نبیل گبول نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بعض سابق مقدمات کا حوالہ دیا۔

اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انمول پنکی کیس سے متعلق معاملہ نمٹا دیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے کمیٹی کو ضروری رپورٹس اور بریفنگ بھی فراہم کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف سے گلوبل فنڈ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات،باہمی تعاون گفتگو