مریم نواز کا بیوروکریسی پر سیاسی دباؤ سے انکار، ن لیگ میں تناؤ بڑھ گیا

Aug 09, 2025 | 12:36:PM
مریم نواز کا بیوروکریسی پر سیاسی دباؤ سے انکار، ن لیگ میں تناؤ بڑھ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی بیوروکریسی میں تقرریوں اور تبادلوں پر سیاسی اثر و رسوخ قبول نہ کرنے کی پالیسی نے مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقوں میں مبینہ کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایک وفاقی وزیر اپنے حلقہ انتخاب سے متعلق ایک اہم انتظامی فیصلے میں نظرانداز کیے جانے پر ناراض ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کو ہٹانے اور گرفتاری کے فیصلے پر وفاقی وزیر نے برہمی کا اظہار کیا، کیونکہ یہ اقدام ان سے کسی مشاورت کے بغیر کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے یہ کارروائی اُس وقت کی جب ان کے سامنے متعلقہ افسر کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے گئے۔ اس فیصلے کی تفصیلات بہت محدود لوگوں کو پہلے سے معلوم تھیں۔

وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز واضح کر چکی ہیں کہ بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کریں گی اور کسی سمجھوتے کے بجائے مستعفی ہونا پسند کریں گی۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ مکمل اطمینان اور شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ تاہم، وزیر دفاع جو سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں، اس صورتحال پر خاص طور پر ناخوش ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:صارفین کی موجیں ،بجلی کی قمیتوں میں مزید  کمی؟بڑی خبر آگئی

پارٹی ذرائع کے مطابق، وزیر کا مؤقف ہے کہ افسر کو ہٹانے سے قبل کم از کم شکایت کی تصدیق یا باضابطہ انکوائری ہونی چاہیے تھی۔ اس معاملے پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ وفاقی وزیر سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

ادھر پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اے ڈی سی کے چار روزہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع حاصل کر لی ہے، اور اگلی سماعت 11 اگست کو ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کار اس معاملے کو مریم نواز کے بیوروکریسی کو سیاست سے پاک رکھنے کے عزم کا بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں، جس نے نون لیگ اور اتحادی پیپلز پارٹی میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔