معروف پروگرام نور سحر میں ’’معافی مانگنا: کردار کی بلندی کا نشان‘‘بصیرت افروز نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ انسان کی فطرت میں معافی ایک مرکزی مقام رکھتی ہے

Oct 08, 2025 | 12:29:PM
معروف پروگرام نور سحر میں ’’معافی مانگنا: کردار کی بلندی کا نشان‘‘بصیرت افروز نشست
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف پروگرام نورِ سحرمیں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "معافی مانگنا: کردار کی بلندی کا نشان" تھا۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ انسان کی فطرت میں معافی ایک مرکزی مقام رکھتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ انسان فرشتہ نہیں، اس سے خطائیں ہوتی رہتی ہیں، مگر اللہ رب العزت اپنے بندوں سے معافی کے ایک لفظ پر لاکھوں گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

انہوں نے نبی کریم ﷺ کا فرمان ذکر کیا کہ "جس نے معاف کیا اور اصلاح کی، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل طاقتور وہ نہیں جو بدلہ لے، بلکہ وہ ہے جو غصہ پر قابو پاتے ہوئے معاف کر دے، فتح مکہ اور طائف کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے عام معافی دے کر انسانیت کے لیے ایک عظیم مثال قائم کی۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ فرد سے لے کر معاشرے تک، ہمارے بیشتر مسائل کا حل معافی اور مغفرت کے رویے میں پوشیدہ ہے، اصل عظمت تب ہے جب طاقت ہمارے پاس ہو اور ہم معافی مانگیں۔

ڈاکٹر تہمینہ یاسر نے معافی کو ذہنی سکون کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معافی مانگنے سے انسان کی انا کمزور ہوتی ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں سے معذرت کرنا ان کی مثبت تربیت کا اہم پہلو ہے۔

پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے معافی کو انسانیت کی روح قرار دیا اور کہا کہ صحابہ کرام کی زندگیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ معافی نے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔

ڈاکٹر محمد اقبال چشتی نے کہا کہ معافی مانگنا کردار کی بلندی، دل کی نرمی اور انسانیت کی علامت ہے۔ یہ نہ صرف روحانی فوائد کا باعث بنتی ہے بلکہ انسان کے نفسیاتی اور سماجی رویے پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔