انڈین طیاروں کی مسلسل تباہی کی وجہ بھارت میں بننے والے انجن ہیں: بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

Mar 07, 2026 | 12:22:PM
انڈین طیاروں کی مسلسل تباہی کی وجہ بھارت میں بننے والے انجن ہیں: بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)بی بی سی کی  تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے بار بار پیش آنے والے حادثات کی بڑی وجہ بھارت میں بننے والے  انجن ہیں۔

بی بی سی کے مطابق   انڈین فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ ایس یو-30 جمعرات کی رات کو کاربی اینگلونگ کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا ، انڈین ایئرفورس نے سکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹینینٹ پوریش دراگکر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔

رپورٹ کے مطابق  ایس یو-30 کو انڈین فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے، سخوئی کمپنی کا طیارہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) بنگلور اور ناسک میں بنتا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے کہا کہ انڈین ایئرفورس کے پاس ایس یو -30 ساخت کے 272 فائٹر جہاز تھے جو اب 260 رہ گئے ہیں،  گزشتہ 15 برس میں انڈین فضائیہ کے ایک درجن سے زیادہ ایس یو -30 جہاز کریش ہوئے ہیں۔

راہل بیدی نے کہاکہ ایس یو -30 جہاز کا اتنی بڑی تعداد میں کریش ہونا بہت گمبھیر معاملہ ہے،انڈین فضائیہ جہازوں کے کریش ہونے کی انکوائری رپورٹ خفیہ رکھتی ہے، بھارتی انڈسٹری ذرائع کہ مطابق ایس یو 30 طیارے کے انجن میں کچھ خرابی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:مٹی کے تیل کی قیمت میں تاریخی اضافہ ،130 روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا 

بھارتی دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کے مطابق چند برس قبل بھی ایس یو 30 کے انجن میں خرابی کا معاملہ دبا دیا گیا، انڈین فضائیہ کے گزشتہ 50 برس میں تقریباً 470 مگ 21 جنگی جہاز کریش ہوئے، بھارتی مگ-21 کے انجن میں بھی خامیاں تھیں لیکن کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔  

انہوں نے کہا کہ  بھارتی فضائیہ میں شامل سبھی تیجس جنگی طیارے دبئی ایئر شو میں حادثے کے بعد سے گراونڈڈ ہیں، بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت 45 سکواڈرن جنگی جہاز ہونے چاہییں لیکن اس وقت ان کی تعداد کم ہو کر صرف 29 سکواڈرن رہ گئی ہے۔

بی بی سی کے مطابق  بھارتی فضائیہ میں دیسی ساخت کے 30 سے 32 تیجس جہاز ہیں اور اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو یہ تعداد اور بھی کم ہو جائے گی، اگر ایس یو-30 کی انکوائری کے بعد کوئی کمی نکل کر آتی ہے تو یہ انڈین فضائیہ کے لیے بہت مشکل صورتحال ہو گی۔