گردن جھک جانا شکست ہے،فلسطینیوں کے سر کٹ گئےلیکن جھکے نہیں،مولانا فضل الرحمان

Apr 07, 2025 | 20:39:PM
گردن جھک جانا شکست ہے،فلسطینیوں کے سر کٹ گئےلیکن جھکے نہیں،مولانا فضل الرحمان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ گردن کا کٹ جانانہیں جھک جانا شکست ہے،فلسطینیوں کے سر تو کٹ گئے لیکن جھکے نہیں۔ 

 امت اسلامیہ کے نام اہم پیغام جاری کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج فلسطین میں غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی صیہونی قوتوں کے ہاتھوں جو بیت رہی ہے یا بیت چکی ہے وہ تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبوں کے سوا کچھ نہیں،اسرائیل نے امن معاہدہ توڑ کر غزہ پر شب خون مارا ہے ،یہ بزدلی کی تاریخ کا حصہ ہے اسے بہادری کو عنوان کبھی بھی نہیں دیا جاسکتا ،اس قوم کی بزدلی پر قرآن کریم گواہ ہے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی معاہدات توڑے ہیں،یہ آج بھی اسی روش پر قائم ہیں اور ناقابل اعتماد قوم ہیں ۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ فلسطین میں غزہ کے مسلمانوں کا خون پیا جارہا ہے اور گوشت نوچا جا رہا ہے،ان کی ہڈیاں چبائی جارہی ہیں،شیر خوار بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپ رہے ہیں،جو کچھ ہوا اسے انسانی عمل سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ،یہ سفاکیت اور درندگی ہے ،نیتن یاہو جنگی مجرم ہے ،اسے عالمی عدالت انصاف نے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے ،عالمی عدالت نے صیہونی قوتوں کی بمباریوں کو خلاف قانون اور جرم  قرار دیا ہے ،نہ عدالتوں کی سنی جارہی ہے اور نہ قانون کا احترام ہورہا ہے،نہ اخلاقیات کا دائرہ موجود ہے ۔

ان کا کہنا تھاکہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ اور یورپ انسانیت جے قتل پر صیہونیت کا ساتھ دے رہے ہیں،ان کو حالیہ مہینوں ذلت آمیزشکست ہوئی،امن معاہدہ فلسطین اور غزہ کی عزت کا ذریعہ بنا ،خفت مٹانے کے لئے شرمناک کردار کاآغاز کیا ،گردن کا کٹ جانا شکست نہیں ،گردن کا جھک جانا شکست ہے،فلسطینیوں کے سر تو کٹ گئے لیکن جھکے نہیں ۔نہ سرنگوں ہوئے اور نہ ہجرت کی،آج وہاں انسانی سانحہ رونما ہے ،60ہزار مسلمان شہید ہوچکے ہیں ،18ہزار بچے اور 12 ہزار خواتین شامل ہیں،ڈیڑھ لاکھ زخمی ہیں،3لاکھ سے زائدہ عمارتیں تباہ ،کوئی ایک کمرہ نہیں جہاں سر چھپایا جاسکے،عید الفطر بھی کھنڈرات بنے گھروں میں منائی ۔
انہوں نے پیغام دیا ہے کہ ان حالات میں دنیائے اسلام کے شانہ بشانہ عید منا رہے ہیں ،ان حالات میں معصوم بچوں کے بیانات سن کر شاباش دیتے ہیں کہ وہ  ہمالیہ سے بلند ہمتوں والے ہیں،وہاں نہ ادویات ہیں نہ کھانے پینے کی کوئی چیز لیکن مسلمان حکمران خاموش ہیں،قرآن کریم جرم کرنے والے اور اس جرم پر خاموش رہنے والے برابر کے مجرم تصور کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسلامی دنیا کے حکمرانوں ! تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟اقتدار اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے،پھر امریکہ کے سامنے کیوں سرنگوں ہو ؟تم نے کلمہ توحید پڑھا ہے،توحید کا تقاضا صرف اللہ کے سامنے جھکنا ہے لیکن اسلامی دنیا کا حکمران امریکہ اور مغرب کے سامنے جھک رہا ہے ،اللہ کے سامنے یہ ایمان کیسے قبول ہوگا ؟توحید کا یہ دعویٰ کیونکر اللہ کے حضور جھوٹا نہیں ہوگا ،وقت ہے کہ سنبھل کر امت مسلمہ کی آواز بن جاؤ،امت مسلمہ آج بھی ایک صف میں ہے   لیکن حکمران جذبات کی ترجمانی نہیں کررہے،مسلمان حکمران امریکہ اور یورپ کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں،امت مسلمہ کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر رہے،اسرائیل اپنے مذموم عزائم کی طرف بڑھ رہا ہے ،گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتے قدموں سے کوئی عرب ملک نہیں بچ سکے گا ،یہ مسئلہ ہمارے حرمین شریفین تک آئے  گا،حرمین شریفین کا تحفظ کیا مسلمان حکمرانوں کا فریضہ نہیں ہوگا،یقین ہے کہ تمام تر سفاکیت اور عالمی قوتوں کی مضبوط  پشت پناہی کے باوجود فلسطینیوں کی آزادی کا عزم نہیں ٹوٹے گا  اور نہ مزاحمت کمزور ہوگی ۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ ان کی پشت پناہی ہے اور یقین ہے کہ اللہ کی مدد اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہے ،ان شاء اللہ کفر شکست کھائے گی ، ذلیل رسوا ہوگا اور عزائم ناکام ہونگے ،امت مسلمہ اپنے ملکوں میں اپنے حکمرانوں پر سیاسی دباؤ بڑھائے ،حکمرانوں کا جھنجھوڑنے کا وقت ہے ، ان کے اندر ذمہ داری کا احساس بڑھائیں ،کیا پیسے کمانا ، امریکہ و یورپ کی مدد حاصل کرنا ،تجارت بڑھانا،یہودیوں کے ساتھ تجارتی معاہدات کرنا تمہارے اہداف ہیں ؟یہی اہداف مسلمان حکمرانوں کی غلامی کا سبب ہیں ،مسلمان آزاد پیدا ہوا ہے ، کوئی اسے غلام نہیں بنا سکتی ۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے علماء کرام سے رابطہ کیا ہے،10 اپریل کو تمام مکاتب فکر کا کنونشن معقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کنونشن میں مشترکہ حکمت عملی اور موقف اپنایا جائے گا ،13 اپریل کو کراچی میں عظیم الشان اسرائیل مردہ باد مظاہرہ ہوگا ،پورا صوبہ سندھ میں اس میں اسلامی جذبے اور امت کی وحدت کا نعرہ لے کر شریک ہوگا،ان شاء اللہ یہ فلسطینیوں کی تقویت کا سبب بنے گا،اللہ کریم امت مسلمہ کی خود نگہبانی فرمائے اورہماری خطاؤں کو نہ دیکھے  ، اپنی رحمت کو دیکھے ،اللہ پاک سے امت مسلمہ کی مدد ونصرت کے محتاج ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں عازمینِ حج کی تربیت کا دوسرا مرحلہ، 72 شہروں میں 142حج تربیتی ورکشاپس