اب روبوٹ بھی ’’درد‘‘ محسوس کر سکیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) روبوٹ ہماری زندگی میں شامل ہو چکے ہیں اب ان میں وہ جدت لائی جا رہی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح درد بھی محسوس کر سکیں گے۔
زمانہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچا کہ مشین (روبوٹ) کو انسان کے مقابل کھڑا کر دیا گیا اور وہ کئی شعبہ زندگی میں انسان کی جگہ لے چکے ہیں جب کہ اب ان میں وہ نئی جدت لائی جا رہی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح درد بھی محسوس کر سکیں گے۔
اب تک دنیا میں جتنے بھی روبوٹ آئے، وہ بے شک مختلف شعبوں میں انسانوں کی جگہ پر کر رہے ہیں مگر وہ اب تک انسان کو قدرت کی طرف سے عطا کردہ حِسوں سے عاری ہیں، تاہم اب جلد یہ انسان کی طرح درد محسوس کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین روبوٹ کے لیے ایسی مصنوعی جلد تیار کر لی ہے، جس کے ذریعہ وہ انسانوں کی طرح درد کا احساس کر سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے انجینئر یو یوگاؤ کی سربراہی میں سائنسدانوں نے روبوٹ کے لیے ایسی مصنوعی جلد تیار کی ہے، جو بالکل انسانی اعصابی نظام کی طرح کام کرتی ہے اور اس کے ذریعہ روبوٹس کسی کا بھی لمس محسوس کرنے کے ساتھ درد بھی محسوس کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں:نایاب مچھلی 3 کروڑ 24 لاکھ ڈالر میں فروخت
نیورومورفک ٹیکنالوجی سے تیار کردہ یہ مصنوعی جلد چار فعال تہوں پر مشتمل ہے اور جب کوئی اس جلد کو چھوتا ہے تو یہ لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتی ہے، یہ سگنلز ہمارے اعصاب دماغ کو پیغامات بھیجنے کی طرح کام کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ جلد اس طرح کام کرے گی کہ اگر دباؤ ہلکا ہوا تو روبوٹ اس کو معمولی لمس کے طور پر سمجھے گا جب کہ جیسے ہی دباؤ ایک خاص حد سے بڑھے گا تو روبوٹ اس کو درد کے طور پر محسوس کرتے ہوئے انسانوں کی طرح ردعمل دے گا۔
اس کی مثال دیتے ہوئے سائنسدانوں نے کہا کہ اگر روبوٹ کسی نوکیلی یا گرم چیز کو چھوئے تو وہ انسان کی طرح فوری طور پر ردعمل دے گا اور فوراً اپنا ہاتھ جھٹک دے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے منفرد خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے، اسی لیے جیسے ہی تیز درد یا چوٹ محسوس ہوتی ہے، سگنل براہ راست روبوٹ کے موٹرز کو ہائی وولٹیج پلس بھیج دیتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ سے ہدایات کا انتظار کیے بغیر روبوٹ کے اعضا فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔