محبت ، موٹاپے کا خطرہ کم کرتی ہے:تحقیق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ایک نئے سائنسی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ محبت موٹاپے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
اس کا اثر دماغ، آنتوں اور ہارمونز پر مشتمل ایک مربوط حیاتیاتی نظام پر پڑتا ہے اور سب سے اہم آکسیٹوسن ہارمون ہے جسے محبت کا ہارمون کہا جاتا ہے۔
یہ بات سائنسی ویب سائٹ میڈیکل ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے ماہرین کا یہ مطالعہ جریدے Gut Microbes میں شائع ہوا۔
یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مضبوط سماجی تعلقات خاص طور پر اعلیٰ معیار کی شادی دماغ اور ہاضمہ کے نظام ک میں ایک مشترکہ راستے سے بھوک اور وزن کو متاثر کر سکتی ہے۔
مطالعے میں لاس اینجلس کے تقریبا ً100 افراد نے حصہ لیا جنہوں نے اپنی ازدواجی حیثیت کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا فراہم کیا۔
محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن شادی شدہ افراد کو اعلی جذباتی مدد حاصل تھی، ان کا بی ایم آئی کم تھا۔
جن شادی شدہ افراد کو کم جذباتی مدد حاصل تھی ان میں کھانے سے متعلق رویے کم تھے۔
دوسری طرف غیر شادی شدہ افراد، چاہے انہیں سماجی مدد حاصل ہو یا نہ ہو، انہوں نے بالکل مختلف دماغی نمونے ظاہر کیے۔
دماغی امیجنگ سکینز نے بتایا کہ محبت پرمبنی سماجی تعلقات یافتہ افراد میں ڈورسولیٹرل پری فرنٹل کارٹیکس کے علاقے میں زیادہ مضبوط سرگرمی ہوتی ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جو کھانے کی تصاویر کو دیکھتے وقت خواہشات اور بھوک پر قابوپانے کا ذمہ دار ہے۔
یہ دماغی سرگرمی غذائی لالچ کے خلاف مزاحمت کرنے اور زیادہ کھانے سے بچنے کی زیادہ صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر اریپانا چرچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم برسوں سے جانتے ہیں کہ اچھے سماجی تعلقات بقا کے امکانات کو 50فیصد تک بڑھاتے ہیں۔
یہ مطالعہ پہلی بار ظاہر کرتا ہے کہ جذباتی مدد کس طرح لفظی طور پر جلد کے نیچے تک پہنچ کر وزن کو متاثر کرتی ہے۔
یہ اثر صرف دماغ تک ہی محدود نہیں۔ شرکا کے جسمانی تجزیوں سے پتہ چلا کہ وہ افراد جنہیں مضبوط سماجی مدد حاصل تھی ان میں ٹرپٹوفان میٹابولائٹس میں مثبت تبدیلیاں تھیں۔
یہ دریافت اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ محبت کا ہارمون صرف جذبات اور پیار سے منسلک ہونے سے کہیں زیادہ ہ اور یہ موٹاپے کی روک تھام میں شامل ایک حیاتیاتی عنصر بن جاتا ہے۔