آبنائے ہرمز کی بندش سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، وزیر توانائی 

Apr 06, 2026 | 19:08:PM
آبنائے ہرمز کی بندش سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، وزیر توانائی 
کیپشن: علی پرویز ملک، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہےکہ پاکستان ایسا ملک ہے جو 80،نوے فیصد توانائی کی ضرورت امپورٹ کے ذریعے پوری کرتا ہے،28 فروری کو ایران پر بمباری ہوئی، اس کی وجہ سے ہرمز کے اندر پیٹرولیم کی چین ڈسٹرب ہوئی،20 ،25 فیصد دنیا کی سپلائی چین ہرمز کے ذریعے گزرتی تھی،رکاوٹ کی وجہ سے آج ساری دنیا کے اندر کئی کئی گنا اضافہ سامنے آچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپیکرایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔

پی ٹی آئی ایم این اے شاہد خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس حکومت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا،ہمارے دور میں دو روپے مہنگا ہوا اور آپ کی پارٹی کے لیڈر نے کہا پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو وزیر اعظم چور ہوتا ہے،جو رات کی تاریکی میں آپ نے غریب طبقے پر ایٹم بم گرایا ہے، جو اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے عوام اذیت میں مبتلا ہیں،اس مسئلے پر بحث کریں، اس وقت تیس چالیس ہزار کمانے والا بندہ بچوں کی فیس نہیں دے پا رہا۔

جے یو آئی کے نور عالم خان نے کہاکہ وقفہ سوالات اتنا ضروری نہیں جتنا مہنگائی پر بات کرنا ضروری ہے،وزیر خزانہ سے پوچھنا چاہئے کہ یہ کہتے ہیں معیشت اتنی مضبوط ہو گئی ہے،تو پھر اتنا زیادہ اضافہ کیوں کیا۔

طارق فضل چودھری نے کہاکہ کابینہ کے ارکان نے اپنی چھ ماہ کی تنخواہ لینے سے انکار کیا ،بڑی گاڑیاں گراؤنڈ ہو گئی ہیں۔

سید امین الحق نے کہاکہ بحث ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے بحث ہونی چاہئے، نوید قمر نے بھی اس مسئلے پر بحث کی حمایت کردی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب  نے کہاکہ جیسے ہی فروری کے آخر میں پتہ چلا کہ کانفلیکٹ بڑھ رہا ہے،وزیراعظم نے ایک کمیٹی بنا دی،ہم نے پیر سے ہی ڈیلی میٹنگز شروع کر دی تھیں،اب یہ پانچواں ہفتہ ہے ہم ہر طریقے سے اس کو مینیج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،میں یہ چاہتا ہوں کہ وزیر پیٹرولیم تفصیل سے بتائیں گے کہ اس کو مینیج کیسے کر رہے ہیں۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایسا ملک ہے جو 80،نوے فیصد توانائی کی ضرورت امپورٹ کے ذریعے پوری کرتا ہے،28 فروری کو ایران پر بمباری ہوئی، اس کی وجہ سے ہرمز کے اندر پیٹرولیم کی چین ڈسٹرب ہوئی،20 ،25 فیصد دنیا کی سپلائی چین ہرمز کے ذریعے گزرتی تھی،رکاوٹ کی وجہ سے آج ساری دنیا کے اندر کئی کئی گنا اضافہ سامنے آچکا ہے۔

وفاقی وزیر کاکہناتھا یہ حادثاتی طور پر کسی کی تیاری نہیں تھی،ہر ہفتے وفاقی حکومت نے پچاس پچاس ساٹھ  ساٹھ ارب برداشت کرکے قیمتوں کا بڑھاوا آگے پاس آن نہ ہونے دیا،کروڈ آئل تاریخ کی بلند ترین سطح 170 ڈالر فی بیرل پر بھی گیا،انشورنس جنگ کی وجہ سے پندرہ پندرہ ملین ڈالر پر جاچکی تھی، ایل این جی کا قطر کے ساتھ پاکستان کا دس سال پرانا معاہدہ ہے،وہ سپلائی چند دنوں میں ہوا میں اڑ گئی، کوئی متبادل نہیں تھا۔

علی پرویز ملک کاکہناتھا کہ صدر آصف علی زرداری کو گزارش کی کہ ریاست کے اداروں کا اکٹھا کریں،صدر ہاؤس میں بھرپور مشاورت کی گئی، جہاں فیلڈ مارشل بھی موجود تھے،وفاقی حکومت نے 140 ارب کا انتظام کر کے عوام کو آئل شاک سے تحفظ دینے کی بھرپور کوشش کی ہے،سب کو ایک پیج پر لا کے وزیراعظم سے درخواست کی گئی کہ قیادت کو اکٹھا کرکے فیصلوں کو حتمی شکل دے کر اس فیصلے کر آگے لے کر چلیں۔

یہ بھی پڑھیں:مراد سعید کی خالی نشست پر پی ٹی آئی کا سینیٹ کا امیدوار کون ہوگا؟نام سامنے آ گیا