لاہور: مارکیٹیں اور بازار رات10 بجے بند کرنیکا حکم

Nov 04, 2025 | 13:40:PM
لاہور: مارکیٹیں اور بازار رات10 بجے بند کرنیکا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) سموگ تدارک کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ مارکیٹیں اور بازار رات 10 بجے بند کیے جائیں۔ 

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی، ڈپٹی کمشنر لاہور عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک تجویز ہے کہ ایک ماہ کے لیے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں، یہ میری تجویز ہے ہمیں ایک دو ماہ یا چار ہفتے ایسا کرنا پڑے گا، شادی ہالز پر بھی نظر رکھیں پورے دس بجے ہالز بند ہونے چاہئیں۔ 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ شادیوں پر ون ڈش کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے لیکن اسکا ماحولیات سے تعلق نہیں، آپکا نوٹیفکیشن ہے کہ مارکیٹس دس بجے بند کرنی ہیں لیکن اس کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، یہ نوٹیفکیشن 2023 کا ہے اس پر عملدرآمد کرائیں،عدالت نے استفسار کیا کہ آپکا نوٹیفکیشن کیا کہتا ہے؟جس پر ڈی سی لاہور نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق بازار دس بجے اور ریسٹورنٹس گیارہ بجے بند ہونگے۔

عدالت نے حکم دیا کہ شہر میں پانچ منٹ کے لیے بھی ٹریفک بلاک نہیں ہونی چاہیے، عدالت نے ڈی سی لاہور کو جانے کی اجازت دے دی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ محکمہ ماحولیات کے موٹر بائیکس اسکواڈز کو چاہیے کہ وہ گشت پر رہیں، تین وہیلر اور رکشوں کی انسپکشن پر کام جاری رہنا چاہیے، یہ جو کام ہیں یہ تین ماہ پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا۔ اب اس کا فائدہ نہیں ہے اب تو جو ہوناتھا ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سندھ حکومت نے خواتین کیلئے  پنک سکوٹی فراہمی کے دوسرے  مرحلے  کا اعلان کردیا

ممبرجوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ جگہ جگہ واسا کا کام چل رہا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ چھ مہینے سے واسا کے تعمیراتی کام جاری ہیں، جگہ جگہ تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔ واسا بتائے کہ اس کے پروجیکٹ کب ختم ہونگے، واسا کے پروجیکٹ شروع ہوتے ہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، پائپ لائن ڈالنے کا پروجیکٹ لمبا نہیں ہونا چاہیے، آپ نے بڑے بڑے پائپ لا کر چھ ماہ پہلے سڑکوں پر رکھ دیے، اس وجہ سے حادثات ہورہے ہیں یہ کیا طریقہ کار ہے؟ 

عدالت نے حکم دیا کہ کل واسا اور ایل ڈی اے کا ذمہ دار افسر پیش ہو، پورے لاہور میں اتنی مٹی کر دی گئی ہے جس کی کوئی حد نہیں، اتنی مٹی میں سموگ گن کیا ہی کام کر لے گی، ہر بندہ اپنی ذمہ داری ادا کرے یہ میرا اکیلے کا کام تو نہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ محکمہ ماحولیات، واسا اور ایل ڈی اے کو جرمانے کیوں نہیں کرتے؟ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ واسا اپنے سارے پروجیکٹس کی تمام تفصیلات کل  پیش کرے،واسا کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں جمعے تک وقت دیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ واسا نے بتانا ہے کہ کنٹریکٹ کے مطابق یہ پروجیکٹ کب ختم ہونے تھے،عدالت نے سموگ کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی۔