پاکستان جھکے گا نہیں!
تحریر: شازیہ کنول
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے نشانے پر ہے, دشمن بدلتے رہتے ہیں ان کے چہرے بدلتے رہتے ہیں، ان کی تنظیموں کے نام بدلتے رہتے ہیں مگر ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا ہے, پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، عوام میں خوف پھیلانا اور ریاستی اداروں کا حوصلہ توڑنا لیکن شاید دشمن ابھی تک پاکستان کی تاریخ نہیں پڑھ سکا، کیونکہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر سازش کے جواب میں عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
کراچی میں رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گردانہ حملے کی کوشش ہو یا ملک کے کسی اور حصے میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی مذموم کارروائیاں یہ صرف عمارتوں یا اہلکاروں پر حملے نہیں ہوتے بلکہ پاکستان کے امن، خودمختاری اور قومی وقار پر حملے ہوتے ہیں۔ مگر دشمن ہر بار ایک حقیقت بھول جاتا ہے کہ پاکستان کے محافظ جاگ رہے ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج، رینجرز، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف ایسی قربانیاں دی ہیں جن کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔ ہزاروں جوانوں نے اپنے خون سے اس وطن کی مٹی کو سینچا تاکہ آنے والی نسلیں امن کی سانس لے سکیں۔ یہ قربانیاں کسی سیاسی جماعت، کسی حکومت یا کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے لیے دی گئیں۔
دشمن ہمسایہ ملک کو بھی یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے خواب دیکھنے والے ہر منصوبے کا انجام پہلے بھی ناکامی تھا اور آئندہ بھی ناکامی ہی ہوگا۔ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ پاکستان کے محافظ گولیوں کی آواز سے نہیں۔اپنے عزم سے پہچانے جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں چلتی اسے مالی وسائل، سہولت کار، پروپیگنڈا اور بیرونی پشت پناہی بھی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کو اپنی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی پوری قوت سے اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر سرپرست کو بے نقاب کیا جا سکے۔
اس موقع پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرنا ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے۔ جب قوم سکون کی نیند سو رہی ہوتی ہے تو ہمارے جوان سرحدوں، چوکیوں، شہروں اور حساس تنصیبات پر جاگ رہے ہوتے ہیں۔ جب دہشت گرد اندھیرے کا سہارا لیتے ہیں تو ہمارے سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روشنی کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی وہ خاموش ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان آج بھی مضبوطی سے کھڑا ہے۔
دہشت گردوں کو یہ پیغام واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ کبھی بلیک میل ہوا ہے نہ ہوگا۔ اس قوم نے دہشت گردی کی آگ میں اپنے ہزاروں بیٹے قربان کیے ہیں، لیکن اپنے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ ہر شہید کا خون اس وطن کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے، کمزوری میں نہیں۔
حکومت پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوج یا سکیورٹی اداروں کی جنگ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے قومی جنگ بنایا جائے۔ جدید انٹیلی جنس، مؤثر بارڈر مینجمنٹ، دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورکس کا خاتمہ، سائبر نگرانی اور فوری انصاف کا نظام وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ قومی یکجہتی بھی اتنی ہی ضروری ہے کیونکہ دہشت گرد سب سے پہلے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب وطن کی سلامتی کی بات آئے تو صرف ایک آواز ہونی چاہیے
پاکستان پہلے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں کے محافظ بہادر ہوں اور عوام متحد ہوں انہیں کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستان کے دشمن یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے۔ اس دھرتی نے ہمیشہ سازشوں کو دفن کیا ہے اور آئندہ بھی ہر دہشت گرد، ہر سہولت کار اور ہر پاکستان دشمن منصوبہ قانون، عوام کے اتحاد اور ہمارے بہادر سکیورٹی اداروں کے عزم کے سامنے ناکام ہوگا۔
یہ وطن شہداء کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت صرف بندوق سے نہیں، ایمان، اتحاد، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی سے ہوتی ہے۔ پاکستان زندہ تھا۔ پاکستان زندہ ہے، اور ان شاء اللہ پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا.