ثنا یوسف کے قاتل کی گرفتاری،113 ویڈیوز اور300فون کالز کا تجزیہ کیا،آئی جی اسلام آباد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) پاکستانی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے بعد آئی جی اسلام آباد نے پریس کانفرنس میں انصاف کا یقین دلایا اور اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہےکہ ملزم کی گرفتاری کے لئے 113 کیمروں کی ویڈیوز جمع کیں، ملزم کی شناخت کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا، ٹیموں نے سیلولر ٹیکنالوجی سمیت مختلف ٹیکنالوجی پر کام کیا، تین سو فون کالز کا تجزیہ کیا گیا، قاتل کی گرفتاری کے لیے 7 ٹیمیں بنائی تھیں۔
2 جون کی رات سے ثنا یوسف نامی ٹک ٹاک سٹار کو انکے گھر میں گھس کر ایک شخص نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔17 سالہ مقتولہ ثنا یوسف کا تعلق بالائی چترال کے گاؤں CHUINJ سے تعلق تھا اور ثنا ایک معروف و متحرک سماجی کارکن کی بیٹی تھیں۔ثنا یوسف کے قتل کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر انکو انصاف دلانے کیلئے کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ثناء یوسف کے کیس کے بعد اسلام آباد سمیت پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور پھر پولیس ذرائع نے قتل کے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جس کی تصدیق کے سب منتظر تھے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد نے ثنا یوسف کے قتل اور ملزم کی گرفتاری کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔جس میں انہوں نے بتایا کہ 17سال کی عمر میں سوشل میڈیا پر ان کا انفلوئنس تھا، ثناء یوسف کو شام 5 بجے ان کے گھر میں قتل کیا گیا ، ٹک ٹاکر کو دو گولیاں لگیں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔انہوں نے ملزم کا اصل نام بتاتے ہوئے کہا کہ 'ملزم عمر حیات کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا، یہ کیس ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج تھا، ملزم کی گرفتاری کے لیے 113 کیمروں کی ویڈیوز جمع کیں، ملزم کی شناخت کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا، ٹیموں نے سیلولر ٹیکنالوجی سمیت مختلف ٹیکنالوجی پر کام کیا، تین سو فون کالز کا تجزیہ کیا گیا، قاتل کی گرفتاری کے لیے 7 ٹیمیں بنائی تھیں۔ملزم کی گرفتاری سے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک چھاپہ فیصل آباد اور دو چھاپے جڑانوالہ میں مارے گئے، ملزم عمر کو ان چھاپوں کی نتیجے میں گرفتار کیا گیا، ملزم کا والد گریڈ 16 کا ملازم تھا۔
آئی جی اسلام آبادعلی ناصر رضوی نے بتایا کہ 'ملزم میٹرک فیل اور بائیس سال کا لڑکا ہے جو بار بار ثناء یوسف سے رابطہ کررہا تھا لیکن مقتولہ ملزم کو بار بار رد کررہی تھیں، ثناء یوسف کی برتھ ڈے پر بھی ملزم نے رابطے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ملزم نے بار بار سیلولر اور فزیکل رابطے میں ناکامی کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا اور 2 جون کی رات منصوبے پر عمل کیا اور قتل کے بعد مقتولہ کا موبائل فون اپنے ساتھ لے گیا تھا تاکہ سارے ثبوت مٹا سکے، گرفتاری کے بعد ملزم کے پاس سے موبائل فون اور آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے ، انہوں نے انکشاف کیا کہ اندھے قتل کو اسلام آباد پولیس نے 20گھنٹوں میں ٹریس کیا، سوشل میڈیا کا استمال کرنے والوں کی ہم نے حوصلہ افزائی کرنی ہے، ملزم کو ناقابل تردید شواہد کے ساتھ تختہ دار تک پہنچائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پولیس والے سمجھتے ہیں کہ وہ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں گے ایسا نہیں ہوسکتا: لاہور ہائیکورٹ