کولکتہ:فوجی مقاصد کا بہانہ بنا کرجگہ پر قبضہ،عید کی نماز پڑھنےپر پابندی لگا دی

Jun 03, 2025 | 00:37:AM
کولکتہ:فوجی مقاصد کا بہانہ بنا کرجگہ پر قبضہ،عید کی نماز پڑھنےپر پابندی لگا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارتی شہر کولکتہ کی معروف جگہ ریڈ روڈ پر اس سال عیدالاضحیٰ کی نماز ادا نہیں ہو سکے گی کیونکہ انڈین فوج نے اسکی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس انکار پر کولکتہ کی مسلم کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں 25 کروڑ سے زائد بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہندو توا کی سوچ نے ان کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں اور وہاں ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ممالک کی رویت کے مطابق 6 یا 7 جون کو عیدالاضحیٰ منائیں گے۔ بھارت میں بھی عیدالاضحیٰ ہفتہ 7 جون کو منائی جائے گی، تاہم بھارت  میں کولکتہ کے مسلمانوں کو  نماز کی مختص جگہ پر ادئیگی کی اجازت نہیں دی جا سکی۔

واضح رہے کہ کولکتہ بھارت کا ایک کثیر آبادی والا شہر ہے اور ریڈ روڈ اس شہر کا ایسا مقام ہے، جہاں ہمیشہ سے عیدین کی نماز کے بڑے اجتماعات باقاعدگی سے ہوتے ہیں اور قابل غور بات یہ ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریسکی سربراہ ممتا بنرجی ماضی میں ریڈ روڈ پر عید کے اجتماعات میں شرکت کر چکی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق تاہم اس سال فوج نے ریڈ روز پر نماز عیدالاضحیٰ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس انکار کی وجہ ’’فوجی مقاصد‘‘ قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے اپنے اس فیصلے سے کولکتہ پولیس اور اس نماز عید کے اجتماع کی منتظم کولکتہ خلافت کمیٹی کو آگاہ کر دیا ہے۔ہیڈکوارٹر بنگال سب ایریا کے تحت زمین کی نگرانی پر مامور ایک کرنل رینک افسر نے کولکتہ خلافت کمیٹی کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ اس سال یہ علاقہ فوجی مقاصد کے لیے درکار ہے، اس لیے یہاں عیدالاضحیٰ کی اجتماعی نماز کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔فوج کی جانب سے اس انکار پر کولکتہ کی مسلم کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے اور معاملہ پر غور وخوض کے لیے خلافت کمیٹی نے اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:بھارتی دہشتگردی رُکنے تک امن قائم نہیں ہو سکتا :بلاول بھٹو زرداری
 
 
اہم ترین