چین کا مستقبل تابناک، جنگوں نہیں معاشی ترقی کا سوچنا ہوگا: آصف علی زرداری

Oct 02, 2025 | 16:07:PM
چین کا مستقبل تابناک، جنگوں نہیں معاشی ترقی کا سوچنا ہوگا: آصف علی زرداری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چین اب بدل چکا ہے، 14 سال پہلے جب آیا تو بالکل مختلف تھا، چین کا مستقبل تابناک، جنگوں نہیں معاشی ترقی کا سوچنا ہوگا۔

چینی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سب کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا، 16 سے 17 مرتبہ چین کا دورہ کر چکا ہوں، ہر بار اپنائیت ملتی ہے، چین کی معیشت مضبوط ہوئی، عوام خوشحال اور مطمئن ہیں، چین کے میرے دورے ہمیشہ خیرسگالی کے لیے ہوتے ہیں، چین کا مستقبل تابناک ہے، پورا مشرق اس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جنگوں کا نہیں معاشی ترقی کا سوچنا ہوگا، پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں، ترقی کا حق سب کا ہے، چین کے ساتھ ہمارا تعاون اب خلا تک پہنچ چکا ہے، زرعی شعبے میں چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے حالات میں چین کے ساتھ کھڑے ہیں، زرعی شعبے میں خودکفیل ہونا ہے تاکہ اپنے مستقبل کو محفوظ بناسکیں، پانی کی بچت اور مؤثر استعمال کے لیے آب پاشی کے جدید طریقوں کو اپنانا ہو گا۔

صدر مملکت نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، پانی کے انتظام، آفات کی روک تھام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کا فروغ وقت کا تقاضہ ہے، ہمارا جغرافیائی محل وقوع باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئندہ نسلوں کو باور کرانا ہے کہ اپنے وسائل کے بہتر استعمال سے خود انحصاری حاصل کرسکتے ہیں، چین اور پاکستان آہنی بھائی ہیں جن کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہے، چین نے ٹیکنالوجی میں جدت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا میں مقام بنایا،انہوں نے کہا ہے کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، پاکستان کی بندرگاہیں چین کے لیے قریب ترین بندرگاہوں میں سے ہیں، سی پیک کی کامیابی سے پورا خط ترقی کرے گا اور روابط مضبوط ہوں گے،چین کے پاس شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا وسیع تجربہ ہے، پاکستان چین کے تعاون سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے، ریلوے کے شعبے میں بھی چین کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔