مسئلہ کشمیر سرد خانے سے نکل کر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا :صدر آزاد کشمیر

Jun 02, 2025 | 17:59:PM
مسئلہ کشمیر سرد خانے سے نکل کر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا :صدر آزاد کشمیر
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)صدرآزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے بعد پیداہونے والی صورت حال کے بعد مسئلہ کشمیر سرد خانے سے نکل کر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے،پاکستان اور ہندوستان کے درمیان روٹ کاز مسئلہ کشمیر ہے،اصل فریق کشمیریوں کو بھی ڈائیلاگ میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آج یہاں سہنسہ میں اخبار نویسوں سے ایک خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے پر اہم رول ادا کیا ہے اور مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کی بھی پیشکش کی ہے جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے وفود بیرون ملک بھیجنے کے بجائے کشمیری دانشوروں صحافیوں اور سیاست دانوں کو دوروں پر بھیجنا چاہیے تا کہ وہ بہتر طورپر اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔ آپریشن بنیان المرصوص میں پاک فوج نے پاکستان کی ساکھ میں مزید اضافہ کیا ہے۔آزاد کشمیرکی لیڈر شپ کو تحریک حریت کشمیر کے لئے اجتماعی موقف اپنانا ہو گا۔

صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں مختلف ممالک کے سفیروں سے بات چیت ہو ئی ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ اب آزادی کی منزل زیادہ دور نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہی ہیں اور اس سلسلے میں موجود بیرون ملک جو بھی وفود بھیجے جائیں وہ کشمیریوں پر مشتمل ہونے چاہیں کیونکہ کشمیری عوام بہتر انداز میں اپنا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ  امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے کوششیں اور پیشکش کی ہے جو کہ خوش آئندہے لیکن خطے میں پائیدار قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ضروری ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو کہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرے کا باعث ہے۔

انھوں ںے کہا کہ  اس لئے عالمی برادری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے لہذا خطے میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا از حد ضروری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس بار کشمیری عوام کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کا فیصلہ کشمیری عوام نے ہی کرنا ہے۔

صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خطے میں پائیدار قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ضروری ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو کہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرے کا باعث ہے، اس لئے عالمی برادری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے لہٰذا خطے میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا از حد ضروری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس بار کشمیری عوام کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کا فیصلہ کشمیری عوام نے ہی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عید پر پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات کی اجازت