ویپ، سگریٹ اور آلودگی پھیپھڑوں کے کینسر کی بڑی وجہ،پروفیسر ڈاکٹر عباس کھوکھر
پھپھڑوں کی صحت برقراررکھنے کیلئے سگریٹ اور ویپ جیسی مہلک عادات سے گریز کریں،مارننگ ودفضامیں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)نامور آنکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر عباس کھوکھر نے’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگوکرتے ہوئےپھیپھڑوں کی صحت سے متعلق تشویشناک انکشافات کردیئے۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ودفضا‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے معروف کینسرسپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹرعباس کھوکھرنے کہا کہ سگریٹ، ویپ، فضائی آلودگی اور صنعتی فضلہ پھیپھڑوں کے کینسر کی اہم وجوہات ہیں، ویپ سگریٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔
پروفیسر عباس کھوکھرنے کہاکہ جب انسان آلودہ دھوئیں میں سانس لیتا ہے تو اس کے پھیپھڑے سیاہ ہو جاتے ہیں اور ان میں چھوٹے چھوٹے زخم بننے لگتے ہیں جس سے سانس لینے میں دشواری،دمے کی شکایت اور بلغم والی کھانسی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عباس کھوکھرنے کہاکہ یہ تمام علامات پھیپھڑوں کی اندرونی خرابی کو ظاہر کرتی ہیں،سگریٹ اور ویپ میں موجود نشہ آور مادے انسان کو اس لت سے آزاد ہونے نہیں دیتےاور اکثر کوشش کے باوجود لوگ اس سے جان نہیں چھڑا پاتے۔
انہوں نے پھیپھڑوں کے کینسر کی اقسام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کی دو اقسام ہیں’’نان-سمال لنگ کینسر‘‘ اور’’سمال لنگ کینسر‘‘ سمال لنگ کینسر نہایت خطرناک اور تقریباً لاعلاج سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن مہادیو کی کوئی اہمیت نہیں، بھارتی وزیر داخلہ کا بیان کہانیاں ہیں: پاکستان
ڈاکٹر عباس کھوکھر نے کینسر کی مختلف اسٹیجز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیج 1 اور 2 میں کینسر صرف پھیپھڑوں تک محدود ہوتا ہے جبکہ اسٹیج 3 میں یہ پھیپھڑوں کے قریبی نالیوں تک پہنچ جاتا ہے اور اسٹیج 4 میں دل اور دماغ تک پھیل جاتا ہے، جب کینسر سٹیج 4 تک پہنچ جائے تو مریض بمشکل دو سال تک زندہ رہ پاتا ہے۔
پروفیسرعباس کھوکھرنے عوام سے اپیل کی کہ سگریٹ اور ویپ جیسی مہلک عادات سے گریز کریں اور صاف فضا کو ترجیح دیں تاکہ پھیپھڑوں کی صحت برقرار رکھی جا سکے۔