’’جینے کے ہیں چار دن، باقی ہیں بے کار دن‘‘ ماہرین نے مضبوط پاسورڈبنانے کے طریقے بتا دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)آج کے ڈجیٹل دور میں آن لائن فریب دہی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ کمزور پاس ورڈز ہیں۔
لوگ اکثر جلدی میں ہر جگہ آسان یا ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جس سے ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ لمبا اور منفرد پاس ورڈ سائبر مجرموں سے تحفظ کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
ڈجیٹل سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی جیمالٹو (اب تھیلس) کے سابق نائب صدر ٹام اسمتھ نے اپنی رپورٹ میں پاس ورڈ سکیورٹی پر بڑا انکشاف کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب بھی ہم پاس ورڈ بناتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ منفرد ہے لیکن اربوں صارفین میں سے کوئی پہلے ہی اس پاس ورڈ کو استعمال کر چکا ہے۔
پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ 8 حروف کا پاس ورڈ محفوظ ہے لیکن اب ہیکرز اسے آسانی سے کریک کر سکتے ہیں۔
آج پاس ورڈ کریکنگ پروگرام اتنے تیز ہو گئے ہیں کہ کچھ سافٹ ویئر فی سیکنڈ۳۵۰؍ بلین پاس ورڈس کو کریک کر سکتے ہیں۔
اسمتھ کے مطابق اب صارفین کو سیکوریٹی کے لیے کم از کم 13 سے20 حروف کا پاس ورڈ رکھنا چاہیے۔
پاس ورڈ جتنا لمبا ہوگا، اسے کریک کرنا اتنا ہی مشکل اور وقت طلب ہوگا۔
ماہرین کے مطابق کوئی بھی مضبوط پاس ورڈ بڑے حروف، چھوٹے حروف اور خصوصی حروف سے مل کر بنتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ عام طور پر `Lucky777` جیسا پاس ورڈ درج کرتے ہیں تو اسے `L@cky!931` میں تبدیل کریں تاکہ یہ آسانی سے ٹوٹ نہ جائے۔
اگر آپ چاہیں تو گانے، نظم یا محاورے سے بھی پاس ورڈ بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ’’جینے کے ہیں چار دن، باقی ہیں بیکار دن کی لائن سے ’’JkhcdBhbd‘‘ جیسا پاس ورڈ بنا سکتے ہیں۔