پاک آرمی عوام کی پسند،پی ٹی آئی دوڑ سے باہر ،الیکشن کمیشن کی دوڑیں؟ دلچسپ سروے

Sep 29, 2023 | 10:32:AM
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاک آرمی عوام کی پسند،پی ٹی آئی دوڑ سے باہر ،الیکشن کمیشن کی دوڑیں؟ دلچسپ سروے میں صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟پروگرام’10تک‘کے میزبان ریحان طارق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام ریاست کا انتہائی اہم جزو ہیں اور یہ ہی جمہوری معاشروں میں ریاستی ادارے طاقت عوام سے ہی لیتے ہیں ۔عوام اور ریاستی اداروں کے مابین رشتہ اعتماد سے ہی مضبوط ہوتا ہے یعنی کسی بھی ریاستی ادارے پر قوم کا عتماد ہی اس کی کامیابی کی کنجی ہے۔ریاست کے کس ادارے پر عوام کو کتنا اعتماد ہے یہ جاننے کے لیے گیلپ پاکستان کی جانب سے ایک سروے کیا گیا جس میں عوام سے پوچھا گیا کہ کسی ادارے پر وہ کتنا اعتماد کرتے ہیں اسی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا کہ کس ادارے کی عوام میں کتنی مقبولیت ہے ۔اس سروے کے نتائج انتہائی دلچسپ ہیں ۔سروے کے مطابق کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں سب سے منظم اور مقبول ادارہ پاک فوج ہے جس کی مقبولیت 88 فیصد ہے۔

سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو میڈیا اور عدالتوں پر 56 فیصد تک بھروسہ ہے تاہم عمومی طور پر سیاستدانوں پر لوگوں کے بھروسے کی سطح صرف 39 فیصد، پارلیمنٹ پر 47 فیصد، الیکشن کمیشن پر 42 فیصد، پولیس پر 54 فیصد تک ہے۔ بھروسے کے لحاظ سے میڈیا اور عدالتوں کی ریٹنگ اور اسکور بہتر ہے اور یہ 56 فیصد تک ہے۔ سروے میں یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ اداروں کے کام کرنے کے انداز سے کس حد تک مطمئن یا غیر مطمئن ہیں۔ فوج کے معاملے میں اطمینان کی سطح 88؍ فیصد، میڈیا اور عدالتیں 56 فیصد، الیکشن کمیشن آف پاکستان 42 فیصد، بلدیاتی حکومتیں 51 فیصد، پولیس 54 فیصد، پارلیمنٹ 47 فیصد جبکہ سیاست دان بحیثیت عمومی 39 فیصد تک رہی۔ صوبائی سطح پر دیکھیں تو پنجاب میں فوج کی مقبولیت کی سطح 90 فیصد، سندھ میں 88 فیصد، کے پی 91 فیصد جبکہ بلوچستان میں 66 فیصد ہے۔ سیاسی جماعتوں کی حکومت اور فوجی حکومت کے آپشن کو دیکھیں تو سروے میں لوگوں کے ایک بڑے حصے کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں وہ فوجی حکومت کی حمایت کریں گے۔

فوج کا سیاست میں کردار ہونا چاہئے یا نہیں: اس سوال کے جواب میں 32؍ فیصد کا کہنا تھا کہ فوج کا سیاست میں بڑا کردار ہونا چاہئے جبکہ 31 فیصد نے کہا کہ فوج کا سیاست میں بالکل کردار نہیں ہونا چاہئے۔ 5 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نون لیگ کے 43 فیصد ووٹرز کا کہنا تھا کہ فوج کا ملکی سیاست میں بڑا کردار ہونا چاہئے جبکہ اس معاملے میں پی ٹی آئی کے 26 فیصد اور پیپلز پارٹی کے بھی 26 فیصد لوگوں نے یہی جواب دیا۔ پی ٹی آئی میں 38 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ نون لیگ میں یہ فیصدی شرح 21 جبکہ پیپلز پارٹی میں 28 فیصد رہی۔سروے کے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سیاستدانوں سے کہیں زیادہ اعتماد عوام فوج سے کرتے ہیں ۔فوج ریاست کا ایک اہم ادارہ ہے جو اصولی طور پر مقتدرہ کو جواب دہ بھی ہے مگر اس سروے کے نتائج کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اگر فوج کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی جائے تو شائد سب سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو مات دے کر فوج ہی کلین سوئپ کرے جائے گی ۔یہ امر قابل غور ہے کہ یہ سروے جولائی میں کرایا گیا یعنی سانحہ نو مئی کے ٹھیک دو مہینے گزر جانے کے بعد ایک ایسے وقت میں کہ جب ایک سیاسی جماعت کے قائدین اور کارکنان براہ راست فوج کیخلاف پراپیگنڈہ کرنے اور کیچڑ اچھالنے میں مصروف تھے۔اس کے باوجود کہ وہ سیاسی جماعت خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں حکومت رکھتی تھی ۔فوج کو سب سے زیادہ 91 فیصد مقبولیت خیبر پختونخواہ اور 90 فیصد پنجاب سے ہی ملی ۔یعنی ان دونوں صوبوں سے جہاں تحریک انصاف کی حکومت تھی تب بھی عوام نے اعتماد کا ووٹ فوج کی جھولی میں ڈالا-

ٹیگز: