پاکستان ٹورازم کلائمیٹ چینج الائنس کا قیام ہوگیا

Nov 29, 2025 | 21:53:PM
پاکستان ٹورازم کلائمیٹ چینج الائنس کا قیام ہوگیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

یہ الائنس کیا ہے؟ یہ کیسے کام کرے گا؟ اور اسکی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جیسے عنوان سے ہی واضح ہے کہ وجہ ہے موسمیاتی تبدیلیاں

 جی ہاں گزشتہ کئی برسوں سے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی سیاحت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے اور گزشتہ دو تین برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کچھ زیادہ سنگین ہو گئے ہیں، بارشیں، آندھی، طوفان ،سیلاب، کلاؤڈ برسٹ ان سب کے اثرات سیاحت پر پڑ رہے ہیں، اگر سیاحت کم ہوگی تو معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے بیروزگاری بھی بڑھے گی، ملکی ترقی کا پہیہ بھی رینگ رینگ کر چلے گا تو کیا کیا جائے؟ ایسے کون سے اقدامات کیے جائیں کہ ہم اپنی سیاحت کو بچا لیں.

 اسکے لیے ملکہ کوہسار مری فلیٹیز میں ایک اہم بیٹھک ہوئی جو کہ قومی کانفرنس کے عنوان سے تھی جس میں گلگت، چترال، سوات، اور دیگر کئی علاقوں سے ٹورازم اور موسمیاتی ماہرین نے شرکت کی اور اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا، پاکستان کے سیاحتی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز پر بحث کی گئی، کئی ماہرین نے پاکستان کے موسمیاتی نظام پر بھی سوال اٹھایا کہ آخر یہ نظام موثر کیوں نہیں، پیش گوئی کیوں صحیح ثابت نہیں ہوئی اور کیوں گمراہ کن اعدادوشمار بتائے گئے، اگر سیلاب ایک جگہ پر ہے تو دوسرا مقام جو محفوظ ہے اسکا الرٹ جاری کیا جاتا رہا ایسا کیوں ہوا؟ ارلی وارننگ سسٹم پر کئی سوالات اٹھائے گئے ۔

ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا کہ 2022 سے ابھی تک  سیاحت کے شعبے کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر ایسا ہی ہوتا رہا کوئی اقدام نہ کیا گیا تو سیاحت آہستہ آہستہ پاکستان سے ختم ہوتی جائے گی اس لیے ایک میکنزم بنانے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹتے ہوئے ٹورازم انڈسٹری کو بہتر کیا جائے اس لیے اس قومی کانفرنس میں پاکستان ٹورازم کلائمیٹ چینج الائنس کا قیام کیا گیا، اور یہ ، تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ فیصلے سے پلیٹ فارم قائم کیا گیا۔

ماہرین نے اتفاق کیا کہ ملک بھر میں سیاحت کے فروغ اور تحفظ کے لیے ڈزاسٹر ریزیلینس حکمت عملیوں کی فوری ضرورت ہے اور پاکستان ٹورازم اینڈ کلائمیٹ چینج الائنس کا مقصد پاکستان کی سیاحت کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے کام کرنا ہے، فعال اسٹیک ہولڈرز کے طور پر حکومت پاکستان کو تحقیقات میں اور شواہد پر مبنی تجاویز فراہم کرنا ہے۔

 ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ہوٹلز کے عملے کو ڈزاسٹر مینجمنٹ کی تربیت فراہم کی جائے گی اور کلائمیٹ چینج ریزیلینٹ ریزورٹس ریسکیو اور رسپانس سسٹم تشکیل دیا جائے گا، سیلاب، گلیشئر کا پگھلاؤ ،کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور دیگر خطرات کے حوالے سے کمیونیکیشن اور ارلی وارننگ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، سیاحت سے متعلق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تحقیق کے لیے ریسرچ اینڈ اینالسز گروپ کی تشکیل کی جائے گی۔

 اس پلیٹ فارم کے لیے ڈاکٹر سعید الہی کو چیف پیٹرن جبکہ حاجی خلیل عباسی کو پیٹرن نامزد کیا گیا اور ساتھ ہی ایک اسٹیرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی، اسٹیرنگ کمیٹی کے کنوینئر کے لیے نصیر عباسی کو نامزد کیا گیا جبکہ سیکرٹری کے لیے جنید شاہ کو نامزد کیا گیا اور کمیٹی اراکین میں سوات سے زاہد خان، بالاکوٹ سے افتخار خان، آزاد جموں کشمیر سے راجہ امجد ،گلگت بلتستان سے عمران ندیم، سوات سے عمران خان ، چترال سے سید حریر شاہ ، اپر سوات سے فرہاد علی اور ملتان سے چوہدری سلمان الہی کو شامل کیا گیا، کمیٹی کا کام ممبر شپ فریم ورک اور عملی منصوبہ بندی کی تشکیل کی ذمہ دار ہوگی۔

یہ یقیناً موجودہ حالات میں ایک اچھا اقدام ہے جس میں تمام اہم علاقوں سے ممبران کو شامل کیا گیا ہے، ایک نکتہ جو قابل غور ہے اور جس پر مجھے تشویش ہوئی کہ کئی ادارے کمیونٹی کی ٹریننگز کی بات یقیناً کرتے ہیں لیکن اس فارم سے پہلے کبھی بھی کسی نے ہوٹلز کے مالکان اور عملے کی ٹریننگ کا نہیں، کسی بھی کیوں کبھی ٹورازم انڈسٹری کی ٹریننگز اور بہتری کا نہیں سوچا یا ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا آخر کیوں؟

پاکستانی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے علاقے جو قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں وہاں کے علاقہ مکینوں کے ساتھ ساتھ ٹورازم انڈسٹری سے منسلک افراد کو بھی ٹریننگز دی جاتی کیوں کہ پاکستان سب کا ہے اس ملک کو بچانا اور بنانا سنوارنا ہر ایک کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

ایک اور اہم بات کہ سیاحت کے فروغ کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنا ہے تو سیاحتی مقامات کو بھی بچانا ہوگا، ملکہ کوہسار مری میں جنگلات کی کمی ہوتی جا رہی ہے کئی پہاڑ سنسان ویران نظر آئے سبزہ نہ ہونے کے برابر نظر آیا، ملکہ کا حسن ماند پڑتا جا رہا ہے اور یہ آنے والے وقت کے لیے بڑا خطرہ ہے صرف ملکہ کوہسار مری ہی نہیں بلکہ کئی سیاحتی مقامات کا یہی حال ہے، درختوں کا کٹاؤ رکنا چاہیے حکومت کو بھی چاہیے کہ لوگوں کو گیس کی سہولیات فراہم کرے تاکہ گیس کو وجہ بنا کر درختوں کا قتل نہ کیا جائے، یہ صرف جنگلات نہیں نسلوں کا تحفظ ہیں۔