اخلاقی اندھا معاشرہ
تحریر : شازیہ کنول
Stay tuned with 24 News HD Android App
عالمی سطح پر سیاسی صورتحال تو بگڑی ہی رہی ہے کسی نہ کسی صورت میں اس کے اثرات قوموں پر پڑتے ہیں مگرجب کسی معاشرے میں انسان کی جان، عزت اور حرمت محفوظ نہ رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قانون نہیں، بلکہ اخلاقیات بھی دم توڑ رہی ہیں۔ آج کا پاکستان اسی کربناک حقیقت سے دوچار ہے۔ قتل و غارت، لڑائی جھگڑے، خواتین پر تشدد، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، چھوٹی بچیوں کی عصمت دری کے بعد ان کا بے رحمانہ قتل، معاشی بدحالی، عدم برداشت اور انتقام کی بڑھتی ہوئی سوچ نے قوم کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر شخص خوف، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا نظر آتا ہے۔
ہر روز اخبارات کی سرخیاں اور سوشل میڈیا کی خبریں دل دہلا دیتی ہیں۔ کہیں معمولی تلخ کلامی پر جان لے لی جاتی ہے، کہیں گھریلو اختلاف قتل کی صورت اختیار کر لیتا ہے، کہیں خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اور کہیں معصوم بچے درندگی کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں, یہ صرف جرائم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی اور اخلاقی زوال کی نشانیاں ہیں۔
معاشی تنگی نے بھی لوگوں کے اعصاب کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اور مستقبل کے خوف نے انسان کو چڑچڑا، غصیلہ اور عدم برداشت کا شکار بنا دیا ہے۔ اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے اور معمولی تنازعات خونریزی میں بدل رہے ہیں۔ ایسے حالات میں نفرت، انتقام اور تشدد نے مکالمے، برداشت اور محبت کی جگہ لے لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف سخت قوانین کافی نہیں ہوتے۔ جب تک گھروں میں اچھی تربیت، تعلیمی اداروں میں کردار سازی، مذہبی و سماجی حلقوں میں اخلاقی شعور، اور ریاست کی جانب سے فوری اور غیر جانبدار انصاف فراہم نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ ظلم و بربریت رکنے والی نہیں۔ مجرم کو سزا کا خوف اور معاشرے کو اپنی ذمہ داری کا احساس دونوں یکساں ضروری ہیں۔
پاکستان کو اس آگ سے نکالنے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے برداشت، انتقام کے بجائے انصاف اور بے حسی کے بجائے احساس کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مہذب، محفوظ اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
یہ ظلم کی داستان صرف سڑکوں اور گلیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ہمارے اپنے گھروں کی چار دیواری بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ماؤں اور بہنوں کو شریعت اور قانون کی طرف سے دیا گیا جائیداد کا حق آج بھی بہت سے خاندانوں میں چھین لیا جاتا ہے۔ وراثت کے معاملے میں لالچ، دھونس اور ناانصافی نے رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔ دوسری طرف وہ والدین جنہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کی پرورش، تعلیم اور خوشحالی کے لیے وقف کر دی بڑھاپے میں اسی اولاد کے ہاتھوں بے توقیری، ظلم، جسمانی و ذہنی تشدد اور بے حسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں انہیں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے.کہیں ان کی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور کہیں مسلسل ذہنی اذیت دے کر انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے جو بالآخر ان کی زندگی چھین لیتی ہیں۔
افسوس کہ بعض دل دہلا دینے والے واقعات میں بوڑھے والدین کو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری قوم کے اخلاقی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ جو معاشرہ اپنی ماؤں، بہنوں اور بزرگ والدین کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتا، وہ امن، ترقی اور خوشحالی کا خواب بھی پورا نہیں کر سکتا۔آج سوال صرف یہ نہیں کہ جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسے معاشرے کے وارث کے طور پر یاد رکھیں گی جس نے ظلم کو معمول اور انسانیت کو فراموش کر دیا تھا.