ذیابیطس، ایچ آئی وی سمیت دیگر سنگین بیماریوں کے تدارک پر توجہ دی جائے؛قائمہ کمیٹی کی حکومت کو ہدایت

Feb 25, 2026 | 00:20:AM
ذیابیطس، ایچ آئی وی سمیت دیگر سنگین بیماریوں کے تدارک پر توجہ دی جائے؛قائمہ کمیٹی کی حکومت کو ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بیشتر نئے صحت منصوبوں پر تحقیقات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ذیابیطس، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور دیگر سنگین بیماریوں کے تدارک پر توجہ دی جائے۔ چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں بنیادی صحت مراکز کی بدحالی، بڑے منصوبوں میں تاخیر، جعلی ڈاکٹرز اور غیر قانونی کلینکس پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی اور حکام سے فوری اقدامات و رپورٹس طلب کر لی گئیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت  نے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام پر غور کرتے ہوئے حکومت کو واضح ہدایت دی ہے کہ صحت کے شعبے میں نئے تعمیراتی منصوبوں کے بجائے عوام کو درپیش سنگین بیماریوں کے علاج اور روک تھام کو ترجیح دی جائے، جبکہ اجلاس میں ملک بھر خصوصاً وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز کی بدتر صورتحال، جعلی ڈاکٹروں، غیر قانونی پیوندکاری اور بڑے منصوبوں میں تاخیر جیسے سنگین معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، رکن قومی اسمبلی، کی صدارت میں ہوا جس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی نئی اسکیموں پر  متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ وزارتِ قومی صحت اور اس کے ذیلی اداروں کے جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے مجموعی طور پر 33 نئے منصوبوں کا جائزہ لیا جن میں وزارت کے 19 منصوبے اور وزیرِ اعظم کی ہدایات پر مبنی 10 اسکیمیں شامل تھیں، کمیٹی نے واضح ہدایت دی کہ قومی وسائل کو غیر ضروری انفراسٹرکچر کی توسیع کے بجائے ملک کو درپیش بڑے صحت بحرانوں کے حل پر خرچ کیا جائے، چیئرمین نے زور دیا کہ ذیابیطس، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس سی، نومولود بچوں کی شرح اموات اور غذائی قلت کو قومی ایمرجنسی سمجھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے بجائے بیماریوں کی روک تھام، اسکریننگ اور علاج کو ترجیح دی جائے، کمیٹی نے زیادہ تر نئے پی ایس ڈی پی منصوبے مسترد کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ زیرِ تکمیل اور اہم منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ تاخیر کم ہو، اخراجات میں اضافے سے بچا جا سکے اور کارکردگی بہتر ہو۔

اراکین نے کہا کہ منصوبوں میں بار بار ترامیم اور غیر منظور شدہ اسکیموں کی قبل از وقت شمولیت سے عوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے، اجلاس میں جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ یہ منصوبہ موجودہ دور حکومت میں مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور عوام کو اس کے نام پر “ٹرک کی بتی کے پیچھے” لگایا گیا ہے، کمیٹی نے دیگر بڑے منصوبوں کی پیش رفت پر بھی سوالات اٹھائے، کمیٹی نے بعض منصوبوں کو ترجیحی قرار دیا جن میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبیلیٹیشن میڈیسن، فیڈرل میڈیکل کالج کی مضبوطی، بنیادی مراکز صحت کو 24 گھنٹے فعال بنانا، جناح میڈیکل کمپلیکس، مٹھی (تھرپارکر) منصوبہ، اینٹی سیرا لیبارٹری، ویکسین سہولیات، شیخ زاید اسپتال کے منصوبے اور دیہی صحت مراکز کی اپ گریڈیشن شامل ہیں، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے کہا کہ شیخ زاید اسپتال کی ایک ہی اسکیم ہر بار اپ گریڈیشن میں رہ جاتی ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے اور دیگر شہروں کی طرح اسے بھی فنڈز دیے جائیں، کمیٹی کے اجلاس میں بنیادی صحت مراکز (بی ایچ یوز) کی حالتِ زار پر شدید تشویش ظاہر کی گئی، رکن کمیٹی زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کئی مراکز میں لیڈی ہیلتھ ورکرز ہی ڈاکٹر بن کر خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ اسلام آباد کے متعدد مراکز میں بنیادی سہولیات حتیٰ کہ دروازے تک موجود نہیں، وزارت نے بتایا کہ بہت سے بی ایچ یوز محدود اوقات میں کام کر رہے ہیں اور عملے کی کمی کا شکار ہیں، جس پر کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی جس میں 24 گھنٹے خدمات، عملے کی کمی اور کارکردگی کے اشاریے شامل ہوں، پمز اسپتال کی صورتحال بھی کمیٹی کے اجلاس کے دوران زیر بحث آئی، رکن کمیٹی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا کہ پمز اسپتال میں ایم آر آئی مشین 3 ماہ سے خراب ہے جس کے باعث مریضوں کی سرجریز تاخیر کا شکار ہیں، تاہم اسپتال حکام نے بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ دونوں ایم آر آئی مشینیں فعال ہیں، اجلاس میں جعلی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا، رکن کمیٹی زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ لہتراڑ روڈ پر قائم تقریباً 90 فیصد کلینکس جعلی ڈاکٹروں کے زیرِ انتظام ہیں اور جن اسپتالوں کو بند کیا جاتا ہے وہ چند دن بعد دوبارہ کھل جاتے ہیں، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا کہ اگر حکام کارروائی نہیں کریں گے تو اراکین کو خود اقدام کرنا پڑے گا، انہوں نے اسلام آباد میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کھلے عام ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں چک شہزاد کے ایک فارم ہاؤس پر ایف آئی اے نے چھاپہ مارا تاہم ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرار ہو گیا، انہوں نے متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی بھی تجویز دی، حکام نے بتایا کہ حالیہ عرصے کے دوران کارروائیوں میں 110 جعلی کلینکس سیل کیے گئے ہیں اور بلڈ بینکس کو بھی نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، کمیٹی نے سیل شدہ کلینکس، لیبارٹریوں اور دیگر مراکز کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، اجلاس میں ملک میں بڑھتے ہوئے ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کیسز پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس اور ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے جبکہ درست اعدادوشمار بھی پیش نہیں کیے جا رہے، اراکین نے کہا کہ جعلی ڈاکٹرز کے باعث ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، کمیٹی نے ملک میں ایچ آئی وی ایڈز کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فنڈز میں اضافے، قومی سطح کے سروے اور روک تھام کے مؤثر اقدامات پر زور دیا جبکہ ہیپاٹائٹس پروگرام کے حوالے سے بھی فنڈز میں کمی پر سوال اٹھایا گیا، وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں اسکریننگ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کی جائے گی اور بعد میں صوبوں تک توسیع دی جائے گی، کمیٹی نے ہاٹ اسپاٹ ڈیٹا اور مریضوں کے علاج کے منصوبے کی تفصیلات طلب کیں اور اس حوالے سے کمیٹی نے وزارت کی بریفنگ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی منصوبوں کے بارے میں سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک کی منظوری، لاگت اور ٹائم لائن سے متعلق واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حکام نے بتایا کہ کوئی بھی منصوبہ وزارت سے منظوری کے بعد پلاننگ ڈویژن کو بھجوایا جاتا ہے، چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں سے قبل مکمل دستاویزات، منظوری کی حیثیت، فنڈز کی تفصیلات اور نظرثانی کی وجوہات پیش کی جائیں، انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس میں اٹھائے گئے تمام معاملات کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے، دیگر امور اور اراکین کی شرکت

اجلاس میں کنگ سلمان اسپتال، بری امام کمیونٹی ہیلتھ اسپتال، بارڈر ہیلتھ سروسز، اینٹی سیرا لیبارٹری، ڈیجیٹلائزیشن منصوبے اور ادویات کی نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ڈریپ کو آئندہ اجلاس میں ڈرگ انسپکٹرز کی کمی اور قواعد کی خلاف ورزیوں پر بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، ڈاکٹر شائستہ خان، ڈاکٹر نکہت شکیل خان، عالیہ کامران، فرخ خان، ڈاکٹر درشن اور سبین غوری سمیت وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: