طوفانی بارشیں ، مکانات کی چھتیں گر گئیں ، 13 افراد جاں بحق ،دریاؤں میں  شدیدطغیانی، سیلاب کا خدشہ

Aug 24, 2025 | 09:36:AM
طوفانی بارشیں ، مکانات کی چھتیں گر گئیں ، 13 افراد جاں بحق ،دریاؤں میں  شدیدطغیانی، سیلاب کا خدشہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24  نیوز )پنجاب،خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش ہوئی، نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، مکانات منہدم ہونے سے 13 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے  جبلہ دریاؤں میں  شدیدطغیانی کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے۔ 

 تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں   مون سون کے طوفانی سپیل کا سلسلہ جاری ہے ، موسلادھار بارشوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں آندھی اور تیز بارش کے باعث مختلف حادثات میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔

ضلع بھر میں متعدد مکانات گر گئے، نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن گرنے سے شہر بھر میں بجلی کی سپلائی معطل ہے۔ شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارش نے تباہی مچا دیں، متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں، کھمبے گرنے سے شہر بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔

لوئردیر میں میدان کے علاقے ٹکاٹک میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں کو نکالا مگر وہ جانبرنہ ہوسکے۔ مرنے والوں میں 10 سال کا قاسم، 11 سال کا مرتضیٰ اور 9 سال کا سہیل شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: تنخواہوں سے کٹوتی ! سرکاری ملازمین کیلئےاہم خبر آگئی

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش سے جل تھل ایک ہو گیا ، ندی نالوں میں طغیانی س، شدید بارش سے بہارہ کہو اٹھال چوک میں سڑک پر پانی جمع ہو گیا ،محکمہ موسمیات کی پیش گوئی پر واسا راولپنڈی ہائی الرٹ، رین ایمرجنسی نافذ ہے۔ آزادکشمیر کے مختلف مقامات پروقفے وقفے سےموسلادھار بارش جار ی ہے ،پشاور،مالاکنڈ،سوات میں بھی بادل کھل کربرسے۔

 ادھر پہاڑوں کا پانی دریا ئے سوات میں گرنے سے پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ،کاغان میں جھیل سیف الملوک جانے والی سڑک  لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہو نے والی سٹرک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔پھنسے ہوئے 150سے زائد سیاحوں کو ہوٹل منتقل کردیاگیا۔

 دوسری جانب ملک بھر میں  جاری بارشوں سے دریاؤں میں  شدیدطغیانی آگئی ،دریائے ستلج بپھر گیا،جلال پورپیروالہ میں دریا کے تیزبہاؤ کے باعث بند ٹوٹ گیا۔سیلابی پانی نے قریبی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا۔قصور،اوکاڑہ،پاکپتن،بہاولنگر اوروہاڑی میں ریسکیو  کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ،گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

جھنگ میں بھی  سیلاب نے تباہی مچادی۔ کئی دیہات میں فصلیں تباہ ہو گئیں،ہیڈ سلیمانکی  اور مظفرگڑھ میں نچلے درجے ہے ،شکرگڑھ میں ندی نالوں میں سیلابی صورتحال سے ہزاروں ایکڑفصل تباہ ہو چکی۔

  پی ڈی ایم اے نے 27 اگست تک بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں درمیانے سے اونچے درجے سیلاب کا خدشہ ظاہر کر دیا ۔

انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے بعد دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ 

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں آنیوالا سیلابی ریلا گجرات اورسیالکوٹ کو متاثر کرسکتا ہے، دریائے چناب اورملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔