’امن کو موقع دینے کی بجائے ایران پر حملہ کیا گیا‘یو این ہنگامی اجلاس میں گوترس و دیگرکا امن پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حالیہ امریکی حملوں کے خلاف ایران کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس نیویارک میں جاری ہے جس میں عالمی رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن کے بجائے ایران پر حملہ کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ میں نے 2دن پہلے بھی امن کو موقع دینے کی اپیل کی تھی لیکن میری اپیل پر توجہ نہیں دی گئی،امن کو چُنا جاتا ہے، مسلط نہیں کیا جا سکتا،انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایران پر حملے کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو موقع دیا جانا چاہیے تھا،خطے کے شہری مزید تباہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
محفوظ سمندری راستے اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے، ان کا کہنا تھاکہ ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری ہے، انہوں نے واضح کہا کہ اقوامِ متحدہ پرامن حل کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے،سلامتی کونسل اور تمام رکن ممالک کو تحمل اور دانشمندی سے کام لینا چاہیے۔
ایران کی ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی حمایت میں پاکستان، روس اور چین پیش پیش رہے، ان ممالک نے خطے میں جاری کشیدگی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
اس دوران ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے IAEA کے سربراہ رافیل گروسی اور اقوام متحدہ کے معاون سیکریٹری جنرل نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی تنصیبات پر حملے کے بعد کی تصاویر زیادہ نقصان ظاہر کرتی ہیں،ایرانی میڈیا کے مطابق فردو میں صرف دو ٹنلز کو نقصان پہنچا ہے، تاہم IAEA نے تاحال نقصانات کی تصدیق نہیں کی،ان کا کہنا تھا کہ نطنز نیوکلیئر پلانٹ بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
رافیل گروسی نے مزید کہاکہ IAEA ایران میں معائنہ کرنے کے لیے تیار ہے،جتنے ایٹمی ہتھیار ہوں گے، دنیا اتنی ہی غیرمحفوظ ہو گی،ایران، اسرائیل اور پورے مشرق وسطیٰ کو امن کی ضرورت ہے اگر مذاکرات کو موقع نہ دیا گیا تو خطے کو مزید بربادی کا سامنا ہو سکتا ہے،تمام فریقین سے ایٹمی تنصیبات کے تحفظ پربات چیت کیلئے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری جنگ ایران سے نہیں، اُسکے جوہری پروگرام سے ہے: نائب امریکی صدر