چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت اجلاس ،ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)چیف جسٹس پاکستان یحیی ٰآفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات سے متعلق اجلاس ہوا،اجلاس میں ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، ای فائلنگ اور سرٹیفائیڈ کاپیوں کے اجرا سے متعلق تمام اہداف مکمل کر لیے گئے۔
اعلامیہ کے مطابق کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل جاری ہے جو دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا ، فائل ٹریکنگ کیلئے بارکوڈنگ سسٹم 15 دن میں مکمل ہوگا۔
سپریم کورٹ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے وقت سزائے موت کے 384 مقدمات زیر التوا تھے، تعداد کم ہو کر 107 رہ گئی، ایک سال میں 449 سزائے موت کے مقدمات نمٹا دیئے گئے، 172 نئے کیسز دائر ہوئے، اجلاس میں تمام زیر التوا سزائے موت اپیلیں آئندہ 45 دن میں نمٹانے کا فیصلہ ہوا،عمر قید کے مقدمات بھی ساتھ ساتھ مقرر کیے جا رہے ہیں، عمر قید کیسز کی زیر التوا تعداد 4160 سے کم ہو کر 3608 رہ گئی۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ 80 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کی جیل پٹیشنز کو ترجیحی بنیاد پر مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا ، کیس ڈی لسٹنگ کی اطلاع عام طور پر 48 گھنٹے پہلے دی جائے گی، جلد سماعت کی درخواستیں مقررہ معیار پر پوری اتریں تو براہ راست فکس کی جائیں گی، ایک ماہ پہلے پروپوزڈ کاز لسٹ جاری کرنے کا فیصلہ ہوا ، ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن مکمل،پبلک فسیلیٹیشن سینٹر فعال،اے ڈی آر، میڈی ایشن اور ای پیمنٹ کے اقدامات جاری ہیں ، سٹینڈرڈائزیشن اور کوالٹی ایشورنس 30 اگست 2026 تک مکمل ہوگی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بروقت انصاف آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔