مسلسل 14 گھنٹے ہوم ورک کرنیوالا بچہ ہسپتال داخل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)چین میں تعلیمی دباؤ کے حوالے سے ایک خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایک 11 سالہ بچہ 14 گھنٹے مسلسل ہوم ورک کرنے کے بعد طبیعت بگڑنے پر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے نے صبح 8 بجے سے لے کر رات 10 بجے تک بغیر وقفے کے ہوم ورک اور مطالعہ کیا۔
یہ سب کچھ والدین کی نگرانی میں گھر پر ہوا تاہم رات 11 بجے کے قریب بچے کی طبیعت بگڑنے لگی اور اسے سانس لینے میں دشواری کے علاوہ چکر، سر درد اور بازو و ٹانگیں سن ہوتی محسوس ہوئیں۔
گھبراہٹ میں والدین اسے فوری طور پر چانگشا کے ایک قریبی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کو ہائپر ویلٹیلیشن (تیز اور گہرے سانس لینے) کی وجہ سے سانس کی عارضی بیماری لاحق ہوئی ہے۔
جذباتی دباؤ اور مسلسل پڑھائی وجہ قرار
ڈاکٹروں کے مطابق بچے کو یہ مسئلہ ذہنی دباؤ اور مسلسل 14 گھنٹے کی پڑھائی کی وجہ سے ہوا۔
اس دوران بچہ شدید جذباتی دباؤ کا شکار ہو چکا تھا جس نے اس کے نظام تنفس پر براہ راست اثر ڈالا۔
ہائپر وینٹیلیشن کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو سینے میں جکڑن، جسم میں سن ہونا، ہاتھوں کی انگلیوں میں جھٹکے جیسی خطرناک علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جو اگر وقت پر قابو نہ پائیں تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
چین میں تعلیمی دباؤ بڑھتا ہوا مسئلہ
چانگشا سینٹرل ہسپتال کے مطابق صرف اگست کے مہینے میں بچوں کے ایمرجنسی وارڈ میں ایسے 30 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ پچھلے مہینوں کے مقابلے میں 10 گنا اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات میں تعلیمی دباؤ، امتحانات کا خوف اور موبائل فونز کا حد سے زیادہ استعمال شامل ہیں۔