"کوفیہ" کی پینٹ کیوں پہنی؟ ایچ ایس وائے کوشدید تنقید کا سامنا
سیاہ اور سفید "کوفیہ" عرب بغاوت کے دوران فلسطینی قوم پرستی کی علامت بناتھا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)نامورفیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین المعروف ایچ ایس وائے کو فلسطینیوں کے لیے مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے اسکارف "کوفیہ" کی پینٹ پہننے پر تنقید کا سامناکرناپڑگیا ۔
ایچ ایس وائے نے "کوفیہ" سے بنی پینٹ یا ٹراؤزر کی ویڈیو اپنے ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس میں انہیں سیاہ شرٹ اور سیاہ کیپ کے ساتھ "کوفیہ" کے ٹراؤزر کے ساتھ دیکھا گیا۔
معروف فیشن ڈیزائنرنے مختصر ویڈیو کو کیپشن کے بغیر شیئر کیااور ساتھ ہی کمنٹس سیکشن بھی سب کے لیے بند کردیا۔
ایچ ایس وائے کی "کوفیہ" سے بنی پینٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جسے صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے،زیادہ تر صارفین نے انہیں"کوفیہ" سے بنی پینٹ پہننے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں تجویز دی کہ وہ مذکورہ ثقافتی کپڑے کی شرٹ پہن سکتے ہیں لیکن پینٹ یا ٹراؤزر پہننا عرب ثقافت کی توہین ہوگی۔
سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ "کوفیہ" کو جہاں پورے عرب ممالک میں ثقافتی کپڑے کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو وہیں اسے فلسطین میں مزاحمت کی علامت کی حیثیت حاصل ہے، دنیا بھر کے لوگ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر "کوفیہ" کے اسکارف کو گلے میں سجاتے اور سر پر باندھتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1930 کی دہائی کی عرب بغاوت کے دوران سیاہ اور سفید "کوفیہ" فلسطینی قوم پرستی کی علامت بنا تھا،1960 کی دہائی کے دوران فلسطینی مزاحمتی تحریک کے آغاز اور فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کے اپنانے کے ساتھ کوفیہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا،یاسر عرفات اسے صرف اپنے کندھوں پر رکھتے اور اپنے سر کے گرد لپیٹ لیتے تھے۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایچ ایس وائے نے "کوفیہ پینٹ" متعارف کرائی ہے یا خود اپنے لیے ایسی پینٹ تیار کی ہے۔