اسرائیل کا ایران پر حملے کا مقصد کچھ اور ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
خطےمیں اس وقت ایک اور جنگ مسلط ہوچکی ہے۔ایران اسرائیل میں جنگ دن بدن شدت اختیار کرتی چلی جارہی ہے اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں ایران بھی بھرپور مزاحمت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔جیسا کہ ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنا کر وہ حقیقت آشکار کی ہے جس کا تصور کبھی ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ برسوں سے مغرب کی اقتصادی اور عسکری پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود، ایران نے جس تکنیکی مہارت سے میزائل پروگرام کو ترقی دی، وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے۔ خاص طور پر ایران کے میزائلز کا آئرن ڈوم جیسے دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اسرائیلی سرزمین تک پہنچنا، ایک ایسی بڑی کامیابی ہے جس نے خطے کی عسکری توازن میں ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے۔اسرائیل میں ایرانی میزائلز کی تباہی کے مناظر نہ صرف اسرائیل کے جانی اور مالی نقصانات کا سبب بنے بلکہ وہ نفسیاتی جنگ میں بھی ایران کی کامیابی کی علامت ہیں۔اہرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ کی کیفیت اس قدر شدید ہوچکی ہے کہ وہاں معمول کی زندگی معطل ہو چکی ہے، اور شہری بار بار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں مجبوراً بھاگتے نظر آتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی نے نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ نفسیاتی محاذ پر بھی اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی میزائلز کو اسرائیل تک پہنچنے سے قبل کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ عراق میں موجود امریکی اڈے، اردن کے دفاعی نظام، اور خود اسرائیلی آئرن ڈوم یہ سب مل کر ان ایرانی میزائلز کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی میزائلز نے اسرائیلی حدود میں گر کر تباہی مچائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران محض ایک علاقائی طاقت نہیں رہا بلکہ اب وہ ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کے اعتبار سے ایک مکمل اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
اس ساری صورتحال کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیل کی ایران مخالف پالیسی واقعی صرف ایٹمی تحفظات پر مبنی ہے؟ زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ ایران آج بھی ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ملک نہیں ہے، جبکہ اسرائیل کے پاس درجنوں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ اگر بین الاقوامی اصولوں اور انصاف کی بات کی جائے تو پھر ایران کو بھی ایٹمی صلاحیت رکھنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا اسرائیل کو حاصل ہے۔ لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادی ہمیشہ دوہرا معیار اپناتے رہے ہیں۔
اسرائیل کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فلسطین میں صیہونی ریاست نے جو نسل کشی کی، وہ ایک کھلی حقیقت ہے جس میں عورتیں، بچے، بوڑھے سب بے رحمی سے قتل کیے گئے۔ اس کے برعکس ایران نے اپنی پوری تاریخ میں کسی دوسرے ملک پر بلاجواز حملہ نہیں کیا، نہ ہی کبھی ایٹمی حملے کی دھمکی دی۔ اب اس موازنےسے یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل خطرہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل کی خودسری اور توسیع پسندانہ پالیسی سے ہے۔
درحقیقت، اسرائیل کا اصل مقصد خطے میں اپنی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کو ہر اس ملک سے خطرہ محسوس ہوتا ہے جو اس کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔چاہے وہ حزب اللہ کے حسن نصر اللہ ہوں، حماس کے اسماعیل ہانیہ، یا شام، عراق اور لبنان جیسے ممالک کی آزاد قیادت۔ صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنا، بشار الاسد کو کمزور کرنا، اور اردن میں اپنے حمایتیوں کو اقتدار میں لانا ان ہی کوششوں کا تسلسل ہیں۔اسرائیل کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ خطے میں اور کوئی قوت اس کے مقابلے میں آ کھڑی ہو۔اور اب تو امریکا اور اسرائیل خطے میں بنتے نئے بلاک سے بھی خائف دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ
آج ایران پر دباؤ کا ایک اور سبب برکس کا ابھرتا ہوا اتحاد بھی ہے۔ ظاہر ہے اگر چین، روس اور ایران جیسے ممالک جب ایک پلیٹ فارم پر آتے ہیں تو امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے یہ ناقابل قبول بن جائے گا اگر پاکستان جیسے ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائیں تو خطے میں ایک نیا طاقتور بلاک وجود میں آ سکتا ہے جو مغرب کے یکطرفہ عالمی نظام کے لیے ایک خطرہ بن جائے گا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسرائیل ایران میں ’رجیم چینج‘ کی کوششوں میں مصروف ہے، تاکہ وہاں ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جا سکے جو اسرائیل اور امریکا کے مفادات کی محافظ ہو۔
یہی مقصد گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا بھی ہےایک ایسا خواب جس کی تکمیل کے لیے اسرائیل خطے کے تمام آزاد اور خودمختار ممالک کو غیر مستحکم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مغربی تھنک ٹینکس اور تجزیہ نگار بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسیز صرف دفاعی نہیں بلکہ مکمل جارحانہ اور توسیع پسندانہ ہیں۔اب
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اگر اسرائیل ایران کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو پھر پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ خطے میں اگر اسرائیل کو کسی جانب سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، تو وہ پاکستان ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، بھارت اور اسرائیل کے درمیان گہرے روابط قائم ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران اسرائیل کی بھارت میں موجودگی دیکھی گئی، جہاں وہ پاکستان کے خلاف بھارت کی مددکرتا دکھائی دیا۔
اگر ایران کو کسی طور پر غیر مؤثر کر دیا جاتا ہے اور وہاں اسرائیل کو برتری حاصل ہو جاتی ہے، تو دوسری جانب بھارت بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں پاکستان دو طرفہ دباؤ میں آ جائے گا۔ ایک طرف سے بھارت کی جانب سے میزائل حملہ ہوگا، تو دوسری طرف اسرائیل ایران کی جانب سے کارروائی کرے گا، اور یوں پاکستان درمیان میں پھنس جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایران کی کھل کر حمایت کر رہا ہے۔