ایرانی دارالحکومت تہران میں پانی کا شدید بحران، شہر خالی کرنے کاعندیہ

شہر کے مرکزی ذخائر میں صرف 2 ہفتوں کا پانی باقی رہ گیاہے،ایرانی صدر مسعود پزشکیان

Nov 13, 2025 | 12:07:PM
ایرانی دارالحکومت تہران میں پانی کا شدید بحران، شہر خالی کرنے کاعندیہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پانی کے شدید بحران کے باعث تہران شہر خالی کرنے کا عندیہ دے دیا۔
 صدر مسعود پزشکیان نےایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نومبر کے آخر یا دسمبرکے شروع میں تہران میں پانی کی راشننگ شروع کریں گے،راشننگ کے دوران بھی بارش نہ ہوئی تو تہران خالی کروانا پڑ سکتا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو شہر میں پانی کی شدید قلت ہوگی، شہر کے مرکزی ذخائر میں صرف 2 ہفتوں کا پانی باقی ہے۔
اس سال ایران میں بارش میں 40 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی  اور ایران کے کئی صوبوں میں 50 سے 80 فی صد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
تہران کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کو درپیش خشک سالی جاری رہی تو یہ شہر جلد ہی ناقابلِ رہائش ہو جائے گا۔
 صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر دسمبر تک بارش نہ ہوئی تو حکومت کو تہران میں پانی کی راشن بندی شروع کرنا ہوگی،اگر ہم پانی کی تقسیم کو محدود بھی کر دیں اور پھر بھی بارش نہ ہو، تو ہمارے پاس بالکل پانی نہیں بچے گا، اس صورت میں شہریوں کو یہ جگہ خالی کرنی پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کوآئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کی توقع
شدید گرم موسمِ گرما کے بعد ایران میں پیدا ہونے والا آبی بحران صرف بارش کی کمی کا نتیجہ نہیں ہے،درجنوں ماہرینِ آب اور ناقدین نے حالیہ دنوں میں سرکاری میڈیا کو بتایا ہے کہ دہائیوں بھر کی بدانتظامی بشمول ضرورت سے زیادہ ڈیموں کی تعمیر، غیر قانونی کنوؤں کی کھدائی اور غیر مؤثر زرعی طریقے نے ملک کے آبی ذخائر ختم کر دیے ہیں، اس بحران نے اس قدر شدت اختیار کر لی ہے کہ سرکاری ٹی وی چینلز پر اس موضوع پر مباحثے اور خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔
پزشکیان کی حکومت نے اس بحران کی وجوہ میں سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں، ماحولیاتی تبدیلی اور ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت تہران کے 70 فی صد شہری روزانہ 130 لیٹر کی مقررہ حد سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔