اقوام متحدہ کا بڑا فیصلہ، طالبان پابندیوں کی نگرانی میں ایک سال کی توسیع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔
قرارداد کو تمام 15 ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا، جس کے تحت مانیٹرنگ ٹیم کا مینڈیٹ 17 فروری 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ ٹیم 1988 افغانستان پابندیوں کی کمیٹی کی معاونت کرتی ہے، جو طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے، قرارداد امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
پاکستان نے بھی قرارداد کی حمایت کی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور القاعدہ پاکستان کے خلاف سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینے میں دہشتگرد حملوں میں 80 افراد جاں بحق ہوئے۔
Through adoption of this resolution, the Security Council has sent a clear message to the Taliban authorities that Afghan territory should not be used to threaten or attack any country, and that no Afghan group or individual should support terrorists operating on the territory of… pic.twitter.com/Iic3goSshP
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 12, 2026
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور طالبان کو اس کا سدباب کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:رمضان المبارک کا چاند کب نظر آئے گا ؟سپارکو نے اہم پیشگوئی کر دی
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو عالمی برادری کا ذمہ دار رکن بننے کے لیے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور بعض کو وہاں سازگار ماحول میسر ہے، خاص طور پر ٹی ٹی پی کو رپورٹ میں سرحد پار حملوں، انتہا پسندی کے پھیلاؤ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ بدستور خطے اور اس سے باہر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ داعش خراسان شمالی افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بھی پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل نے قرارداد کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننی چاہیے اور تمام رکن ممالک کو یرغمالیوں کے بدلے تاوان یا سیاسی رعایتوں سے گریز کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں:زلزلہ کے شدید جھٹکے،عمارتیں لرز اٹھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور موجودہ پابندیوں کی مؤثریت پر آئندہ بحث میں اہم کردار ادا کرے گی۔