کراچی چیمبر آف کامرس کا وفاقی بجٹ پر ردعمل، برآمدات اور توانائی پالیسی پر تشویش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)کراچی چیمبر آف کامرس کے عہدیداران نے وفاقی بجٹ 2026-27 کی تقریر سننے کے بعد پریس کانفرنس میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے کہا کہ اکنامک سروے کے بعد ایکسپورٹ میں خاطر خواہ ریلیف نظر نہیں آیا،ان کے مطابق فکسڈ ٹیکس ریجیم کو نہیں مانا گیا اور ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے بجٹ میں کوئی مثبت خبر نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ توانائی سے متعلق کوئی واضح پروگرام پیش نہیں کیا گیا جبکہ ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق انڈسٹری کی 98 فیصد ادائیگیاں جاری ہیں۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ بجلی کے نرخوں پر بھی کوئی مؤثر تبصرہ یا ریلیف سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو مضبوط معیشت بنانے کے لیے ڈالر لانا ضروری ہے، جو صرف برآمدات اور انڈسٹری کی ترقی سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کو فوری جاری کیا جانا چاہیے، جبکہ سپر ٹیکس پر کام کرنا ایک اچھا اقدام ہے۔ ان کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا گیا ہے، جو مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 15 ہزار ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ یہ ہدف کیسے حاصل کیا جائے گا،کراچی چیمبر کے مطابق کنسٹرکشن سیکٹر کو مراعات دی گئی ہیں جو مثبت بات ہے، جبکہ ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ تجاویز حکومت نے قبول کی ہیں، جن میں فیس لیس انکم ٹیکس اور آٹومیشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔
مجموعی طور پر زبیر موتی والا کے مطابق یہ بجٹ نہ اچھا ہے نہ خراب،ٹیکس نیٹ میں پے اس پرسارہ بوجھ ڈالاجاتاہے،آٹومیشن ،تنخواہ دار طبقہ ،رئیل سٹیٹ پراچھاکام کیاہے،کے فور پرصرف 10ارب روپے رکھےہیں ضرورت 40ارب روپے کی ہے،کراچی کی بات نہیں کی گئی۔