وزیراعلیٰ کے پی کی عقل پر حیرت ہے، سیکیورٹی فیصلے بند کمروں میں ہی ہوتے ہیں:سلیم بخاری
’’سلیم بخاری‘‘ نے کہا کہ جس شخص کو اس بات کا ادراک بھی نہیں کہ انٹیلی جنس آپریشن کے فیصلے کہاں اور کیسے ہوتے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار ’’سلیم بخاری‘‘ نے کہا ہے کہ جس شخص کو اس بات کا ادراک بھی نہیں ہے کہ اس قسم کے انٹیلی جنس آپریشن اور سییکیورٹی کے فیصلے کہاں اور کیسے ہوتے ہیں؟ اس کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ہے اس کی عقل اور دانش پر حیرت ہے۔
’’24 نیوز‘‘ کے مقبول ترین پروگرام ’’دی سلیم بخاری شو‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کے پی کی عوام کے ساتھ بہت بڑی ذیادتی ہے۔کوئی اس کو سمجھائے بھائی ایسے فیصلے بند کمروں میں ہی ہوتے ہیں جس میں سٹریٹیجی بنائی جاتی ہے ۔
دوسری بات کہ کے پی ایک پر امن صوبہ تھا سفید جھوٹ ہے ان کو یاد کرنا چاہئے کہ جب اے پی ایس کا واقعہ ہوا تھا تو پی ٹی آئی کی ہی حکومت تھی، تحریک انصاف کی یہ تیسری حکومت ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ ان کو شرم آنی چاہیے یہ کہتے ہوئے کہ پر امن صوبہ تھا یہاں کبھی بھی امن نہیں تھا بلکہ سب سے زیادہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن اس صوبے میں ہی ہوئے ہیں، کوئی ایک دو تین مہینے ایسے نکال کر یہ نہیں دکھا سکتے جب یہاں دہشتگردی نہ ہوئی ہوئی یہ کونسی دنیا میں رہتے ہیں۔
معروف تجزیہ کار نے کہا کہ اس میں کوئی خاص نئی بات نہیں کیونکہ جو چیزیں نہیں کر پارے اور جو چیزیں نہیں کرنا چاہ رہیے ہیں جب تک وہ نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اس وقت انہوں نے یہ فرما دیا کہ حکومت جو آپریشن کرنے جا رہی ہے یہ حتمی ہوگا لیکن یہ بات تو ہم پہلے بھی کئی دفع سن چکے ہیں۔
نہوں نے کہا کہ کچے کے ڈاکوئوں کا مکمل صفایا کر دیں گے، نہیں ہوگا صفایا جب تک ان کے سہولت کاروں کا صفایا نہیں ہوتا۔ سہولت کار کون ہے وہ کوئی آسمان سے نہیں اترا۔
وہ وہاں کا وڈیرا ہے جوکہ اپنی اولادوں کو بچانے کے لیے اور اپنے مال و دولت کو بچانے کے لیے ان کی سہولت کاری کر رہا ہے جب تک وہ سہولت کاری بند نہیں کرتا ، ان کا صفایا نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں :کل زمین کی گردش کا عالمی دن منایا جارہا ہے: ترجمان سپارکو