افغان طالبان کے ڈرون حملوں کے پیچھے چھپا بھارت بے نقاب ہو گیا

Aug 08, 2026 | 19:10:PM
 افغان طالبان کے ڈرون حملوں کے پیچھے چھپا بھارت بے نقاب ہو گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پاکستان کے خلاف استمعال ہونے والے ڈرون طالبان کے حکم سے آتے ہیں لیکن پیچھے بھارتی انجینئیر بیٹھے ہیں۔  انٹرنیشنل میڈیا کی تحقیقات سے پاکستان کے اس مؤقف کی  تصدیق ہو رہی ہے کہ افغانستان  پر قابض طالبان ریجیم بھارت کی مدد اور سرپرستی سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور ڈرون دراندازی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ 
انگلینڈ کی نیوز آؤٹ لیٹ انڈیپنڈنٹ نے طالبان رجیم کے ڈرون پروگرام میں بھارت کے فوجی انجینئرز اور بدنام دہشتگرد تنطیم القاعدہ کی معاونت اور طالبان بھارت گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

اندیپنڈنٹ کی چونکا دینے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں طالبان نے پہلی بار پاکستان کے خلاف ڈرون استعمال کیے، گزشتہ 11 ماہ کے دوران طالبان نے پاکستان اور افغان فریڈم فرنٹ کے خلاف کارروائیوں میں ڈرونز کا مسلسل استعمال کیا ۔ زیبک میں طالبان نے افغان فریڈم فرنٹ کے خلاف ڈرونز کا مسلسل اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ڈرون حملوں میں شہری مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز طالبان رجیم کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے کھوکھلے دعوے پر سوالات اٹھاتی ہیں ۔

طالبان وزارت دفاع نے چینی کمپنیوں سے ہزاروں کمرشل کواڈ کاپٹرز اور ڈرون انجن خریدے ، طالبان حکام نے گزشتہ ایک سال کے دوران حمایت کے حصول کے لیے بھارت کے متعدد دورے کیے، بھارتی فوجی انجینئرز کابل میں بھارتی سفارتخانے کے تعاون سے طالبان کی ڈرون صلاحیت بڑھانے میں مصروف ہیں، طالبان کے کواڈ کاپٹرز میں دستی بم، کیمرے اور فوجی گولہ بارود نصب کیا جا رہا ہے۔بھارتی معاونت سے گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں حملہ آور ڈرونز تیار کرکے افغانستان کے مختلف طالبان فوجی اڈوں پر تقسیم کیے گئے۔

طالبان خودکش حملہ آوروں اور زمینی دستوں کے بجائے ڈرونز کو کارروائیوں کی اگلی صف میں استعمال کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹ کے مطابق طالبان کم لاگت کے خودکش ڈرونز تیار کر رہے ہیں، طالبان کا القاعدہ کے ساتھ ڈرون تعاون افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے تکنیکی گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتا ہے، القاعدہ طالبان کو مقامی سطح پر خودکش ڈرونز تیار کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:    آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر میزائل کا حملہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کابل اور صوبہ لوگرمیں طالبان کی فوجی تنصیبات پر ڈرونز کی بڑے پیمانے پر تیاری کی جارہی ہے، سابق افغان سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ طالبان نے کابل کے داؤد خان ملٹری ہسپتال کے تہہ خانے میں ڈرون پیداواری مرکز قائم کر رکھا ہے۔

 القاعدہ طالبان کے ڈرونز کی تکنیکی صلاحیت اور دھماکہ خیز طاقت بڑھا رہی ہے، طالبان-القاعدہ گٹھ جوڑ اور طالبان-بھارت بڑھتے عسکری روابط افغانستان کو دہشت گرد ڈرون ٹیکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ طالبان کی ڈرون صلاحیت میں اضافہ پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  مقتول میر رضا کے قاتلوں تک پہنچنے میں کون طاقت رکاوٹ؟