شہید علی خامنہ ای کی قم میں بھی نماز جنازہ ادا،سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) شہید علی خامنہ ای کا جسد خاکی قم پہنچا دیا گیا،آیت اللہ سیّد علی خامنہ ای کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران سے قم پہنچایا گیا۔قم میں لاکھوں سوگواروں کی آمد کے پیش نظر غیرمعمولی سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم پہنچا دیا گیا جہاں آج ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
قم سے میت کو نجف میں روضہ حضرت علی علیہ السلام لے جایا جائے گا، جس کے بعدکربلا میں روضہ حضرت امام حضرت امام حسین اور حضرت عباس علیہ السلام پر لے جایا جائے گا،لاکھوں سوگواروں نے نماز جنازہ کے بعد محبوب رہبر معظم کو تہران سے الوداع کیا۔شہید علی خامنہ ای کو 9 جولائی کو مشہد مقدس میں دفن کیا جائے گا۔
Surrounded by millions of grieving mourners.
— Tehran Times (@TehranTimes79) July 6, 2026
Scenes from the funeral procession honoring the bodies of the #Martyred_Leader and his martyred family members as they were carried through the streets of #Tehran. pic.twitter.com/9IRSZQe9ZW
واضح رہے کہ اس سے پہلے تہران میں نماز جنازہ ادا کی گئی تھی جہاں عالمی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی، لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ خلا سے بھی ہجوم دیکھا جاسکتا تھا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد نے شرکت کی، خبررساں ایجنسی رائٹرز نے سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جس میں جلوس جنازہ میں شریک افراد کو دکھایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جلوس جنازہ قومی سطح پر الوادعیہ سے بڑھ کر تھا، جلوس جنازہ بعد از جنگ مزاحمت کی علامت تھا اور اس میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔
ماہرین کے حوالے سے رائٹرز کا کہنا ہے شرکا نے امریکا اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ ایران کے حصے بخرے کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی، ایران اس جنگ میں محفوظ رہا ہے اور یہی بقا اور مزاحمت ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کی بنیاد بنے گی۔
ماہرین کے مطابق اس جلوس جنازہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر ورسوخ بڑھایا ہے اوراس قابل کیا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر کوئی بھی ڈیل اس بات کو تسلیم کرنے سے جڑی ہو کہ اس آبنائے کو ایران کنٹرول کرتا ہے۔