ریپ مقدمات میں سزا ہونے کی شرح میں بہتری، 78فیصد تب بھی بری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سینیٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے اجلاس میں ریپ کے مقدمات میں سزائیں ہونے کا ڈیٹا سامنے آ گیا۔ سیکرٹری ہیومن رائٹس نے کہا کہ 2021 کے بعد سے بہتری آرہی ہے۔
سینیٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس سینٹر ثمینہ ممتاز زاہری کی زیر صدارت ہوا۔ سیکرٹری ہیومن رائٹس نے ریپ کنوکشن کے اپ ٹو ڈیت اعداد و شمار کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ انسانی حقوق کیسسز میں کنوکیشن ریٹ 2020 میں چار فیصد تھا، 2021 کے بعد سے بہتری آرہی ہے۔
صوبہ سندھ میں ریپ کے مقدمات میں کنوکشن (عدالت سے سزا ملنے کا عمل) 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں ریپ کیسسز میں کنوکشن ریٹ 12 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد میں ریپ کیسسز میں کنوکشن ریٹ 6.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
خیبر پختونخواہ میں ریپ کیسسز میں کنوکشن ریٹ 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب میں ریپ کیسسز میں کنوکشن ریٹ 4 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر خلیل طاہر نے کہا، اگر جرم 24 گھنٹہ ہو سکتا ہے تو انصاف 24 گھنٹہ کیوں نہیں ہوسکتا۔
ہیومن رائٹس کمیٹی کی چئیر پرسن سینیٹر سمینہ ممتاز زہری نے کہا، انسانیت مر چکی ہے ہم صرف ڈرائنگ روم میں بات کرکے ختم کر دیتے ہیں۔
سینیٹر سمینہ ممتاز زہری نے کہا، بس کنڈیکٹر نے خاتون سے زیادتی کی۔ مجھے کمیٹی چلاتے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں۔ ہم آتے ہیں کمیٹی ہوتی ہے لیکن کچھ ہو نہیں پاتا۔
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا، لاء اینڈ آرڈر صوبوں کے ذمہ ہے۔
کمیٹی کی چئیرپرسن سینیٹر سمیہ ممتاز زہری نے جن کا تعلق بلوچستان سے ہے، بتایا کہ مجھ پر بلوچستان میں پچاس سے ساٹھ گولیاں چلیں، یکن میں نے اپنے گارڈز کو جوابی فائرنگ کرنے سے منع کر دیا۔ اگر میرے گارڈز بھی فائرنگ کرتے تو کراس فائر ہوجاتا تو کتنا نقصان ہوتا۔ ہمارے ہاں سیکورٹی کے بہت اشوز ہیں۔ سیکورٹی گارڈ رکھنا بھی مجبوری ہے لیکن شو آف کرنا بھی ایشو ہے۔ چئرپرسن نے کہا، سیکٹری صاحب آپکے ساتھ کارو کاری کے حوالہ سے الگ میٹنگ کرنا چاہوں گی۔
ہیومن رائتس کمیتی کے اجلاس میں بعض افغان عورتوں کو جاری کئے گئے ویزے کینسل کرنے کے واقعہ کے متعلق بھی حقائق سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
وزارت داخلہ کے نمائندہ نے اجلاس میں پیش ہو کر بتایا کہ افغان خواتین کے ویزے کینسل کرنے سے متعلق سوال پوچھا گیا۔ وزارتِ داخلہ کسی کو بھی جنس کی بنیاد پر ویزے سے متعلق کوئی تفرق نہیں کرتی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے سوال کیا، پاکستان میں افغان، چائینیز، بھارتی شہری ویزے کے بغیر کیوں موجود ہیں؟ سوال یہ ہے کہ افغانی کیوں یہاں بغیر ویزے کے موجود ہیں؟ وزارت داخلہ کے نمائندے نے کہا، اگر کوئی غیر قانونی ہے تو اس کو واپس بھیجا جائے گا۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا، چالیس سال پہلے افغانیوں کو یہاں انٓے پر ہار پہنائے جا رہے تھے۔ ضیاء الحق کی پالیسی تھی جو افغانوں کو لایا تھا۔ اس وقت غیر قانونی افغانیوں کو ویلکم کیا گیا تھا۔
ایمل ولی نے سوال کیا، افغان کمشنر کیوں بنے ، مہاجر کیمپ کیوں بنے۔
ایمل ولی نے کہا، جو لوگ بھارت سے آئے ان کو ہم نے اپنا لیا لیکن جو لوگ افغانستان سے آئے، ان کو ہم اپنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
وزارت داخلہ کے نمائندہ نے کہا، ہمیں نیشنل سیکورٹی پلان کو بھی دیکھنا ہے۔
ایمل ولی نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت یی صرف ایک ہی پالیسی ہے، " قیدی کو رہا کرواؤ"،
چالیس سال سے یہاں مقیم شریف لوگوں کو شہریت دینے کا مطالبہ
سینیٹر ایمل ولی نے کہا، چالیس پچاس سال سے (افغانستان سے آئے ہوئے) شریف لوگ پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان پر کوئی ایف آئی آر نہیں ہے۔ ان کے لئے نیشنیلٹی دینے کی پالیسی بنائی جائے۔ ایمل ولی نے کہا، شکر کریں کہ کچھ لوگ پاکستان کی نیشنیلٹی مانگ رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ تو چھوڑ کر باہر بھاگ رہے ہیں۔
سینیٹر ایمل ولی کے مطالبات کو لے کر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے شہریت دینے کی پالیسی سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی پنجاب کے دو شہروں میں بم دھماکے کس نے کرائے، وزیراعلیٰ نے بھانڈا پھوڑ دیا