مشرقی پنجاب کے دو شہروں میں بم دھماکے کس نے کرائے، وزیراعلیٰ نے بھانڈا پھوڑ دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) مشرقی پنجاب کے شہروں امرتسر اور جالندھر میں بم کے دھماکوں پر وزیراعلیٰ بھگونت مان نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر انگلی اٹھا دی۔ بھگوت مان نے ان واقعات کو براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش قرار دے دیا۔
مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگوت مان نے براہ راست بی جے پی پر سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، یہ بی جے پی کے کام کرنے کا سٹائل ہے،جس ریاست میں الیکشن لڑنا ہوتا ہے، پہلے وہاں پر دنگے کروا دو۔ چھوٹے موٹے دھماکے کروا دو۔ لوگوں کو دھرم اور جاتی کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر دو، بھگوت مان نے کہا، یہ پنجاب کے لیے بی جے پی کی پنجاب کے الیکشن کی تیاری ہے۔
بھگوت مان نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی بی جے پی اپنی ایسی حرکتوں سے باز نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا، پنجاب امن کا صوبہ ہے۔ پنجاب دیش کے لئے ہمیشہ کھڑا ہے۔
بھگوت مان عام آدمی پارٹی کے وزیراعلیٰ ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں ان کی پارٹی نے مقامی پنجاب پارٹیوں اکالی دل، اکالی دل، کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے کر حکومت بنائی تھی۔ انتخابات 20 فروری 2022 کو ہوئے تھے، جس میں عام آدمی پارٹی نے 117 میں سے 92 نشستیں حاصل کر کے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔
مشرقی پنجاب میں قانون ساز اسمبلی کے نئے انتخابات فروری 2027 میں ہونا ہیں۔ اس سے پہلے یہاں بلدیاتی انتخابات ہونے کی توقع ہے۔
ریاست کے الیکشن کمیشن نے اپریل 2026 میں میونسپل کارپوریشنز کے لیے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل شروع کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بقیہ یا نئے حلقوں کے انتخابات 2026 کے وسط تک متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
امرتسر اور جالندھر میں دھماکے کب ہوئے؟ اپ ڈیٹ کیا ہے؟
مشرقی پنجاب کے شہروں جالندھر اور امرتسر میں حالیہ دھماکے کل 5 مئی 2026 منگل کی رات کو ہوئے۔ ان واقعات کے بعد پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
دھماکوں کی تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
جالندھر دھماکہ (وقت: تقریباً رات 8:00 بجے)
یہ دھماکہ جالندھر میں بی ایس ایف (BSF) ہیڈ کوارٹر کے باہر 'بی ایس ایف چوک' پر ہوا۔
دھماکے سے ایک کھڑے ہوئے سکوٹر میں آگ لگ گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اب تک تحقیقات: اس جگہ کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مشتبہ شخص کو جائے وقوعہ سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
امرتسر دھماکہ (وقت: تقریباً رات 10:50 بجے)
جالندھر کے واقعے کے تین گھنٹے بعد امرتسر کے خاصہ (Khasa) کینٹ کے قریب ایک دھماکہ ہوا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، کوئی وزنی چیز یا آئی ای ڈی (IED) آرمی کینٹ کی بیرونی دیوار کی طرف پھینکی گئی تھی جس سے دیوار کو معمولی نقصان پہنچا۔
اپ ڈیٹ
ان دو واقعات کے بعد ایک غیر معروف گروپ خالصتان لبریشن آرمی (KLA) نے جالندھر دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم پولیس ابھی اس دعوے کی تصدیق نہیں کر رہی ہے۔ دی ٹائمز آف انڈیا نے اس دعوے کے متعلق رپورٹ کیا ہے۔
چیف منسٹر بھگوت مان نے بھانڈا پھوڑ دیا
پنجاب کے ڈی جی پی (DGP) گورو یادو کے مطابق ان دھماکوں میں آئی ای ڈی (IED) استعمال کیے گئے ۔ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے لوگ اپنی عادت کے مطابق پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی پر انگلی اٹھا رہے تھے، یہ بات قابل توجہ ہے کہ پنجاب میں اچانک دو معمولی، غیر ضرر رساں دھماکے 6=7 فروری سے دو دن پہلے ہوئے جب پاکستان پر بھارت کی بلا اشتعال مسلط کی ہوئی جنگ کی پہلی برسی ہے۔
لیکن پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگوت مان نے خود بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی ان حرکتوں کا ذمہ دار قرار دے کر سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
وزیراعلیٰ بھگونت مان نے پاکستان پر مدا ڈالنے کی کسی سازش کی طرف جانے کی بجائے، ان واقعات کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابات سے قبل خوف پھیلانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔