ماہرین آثار قدیمہ نے مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت کرلیا

Jul 05, 2026 | 13:47:PM
 ماہرین آثار قدیمہ نے مصر میں صدیوں پرانا شہر دریافت کرلیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے صدیوں پرانا ایک شہر دریافت کرلیا۔
مصری وزارت سیاحت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیاہے کہ یہ قدیم شہر مصر کے مغربی صوبے نیو ویلی میں واقع صحرا کے ایک نخلستان میں دریافت کیا گیا، اس قدیم شہر میں روزمرہ کی زندگی، شہری ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
چوتھی صدی عیسوی کا یہ شہر بازنطینی عہد سے تعلق رکھتا تھا جس میں رہائشی اور مذہبی عمارات موجود تھیں جن میں سے ایک گرجا گھر بھی ہے،ماہرین نے وہاں سے سکے، مٹی کے برتن اور اوزار بھی دریافت کیے ہیں۔
اس عہد میں مصر بازنطینی ریاست کے تحت تھا،شہر میں شاہراؤں کے ذریعے علاقوں کو آپس میں ملایا گیا جبکہ چوراہے اور عوامی مقامات بھی وہاں موجود تھے۔گرجا گھر شہر کے قلب میں واقع ہے جبکہ 2 واچ ٹاورز کے آثار بھی ملے ہیں جو ممکنہ طور پر شہر کے تحفظ کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق ایک بڑے اسٹرکچر کو موٹی حفاظتی دیواروں کے ساتھ دریافت کیا گیا جبکہ متعدد گھروں میں استقبالیہ ہالز اور محرابی چھتیں پائی گئیں، ماہرین نے چولہے، کچن، کانسی کے سکے اور پیسنے کے اوزار بھی دریافت کیے ہیں،سکوں پر بازنطینی شہنشاؤں کی تصاویر موجود تھیں جبکہ لاطینی زبان کے الفاظ اور مسیحی علامات بھی پائی گئیں،سونے کے سکوں پر رومی شہنشاہ قسطنطینوس دوم کے عہد کا ذکر ہے جو 337 سے 361 کے درمیان تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیلی کام بل سے کسی کی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا: شزا فاطمہ
 ماہرین آثار قدیمہ نے اسکندریہ کے مغرب میں 62 میل دور 18 تاریخی مقبرے بھی دریافت کیے ہیں،ان میں 11 مقبرے چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے جبکہ 7 کو چونے کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا،ان مقبروں سے مٹی کے گھڑے، لیمپ، پلیٹیں اور چونے کے پتھر سے بنے برتن بھی دریافت ہوئے ہیں۔