آؤ جاپان چلیں (چھٹی قسط )
حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
ارشد ندیم کے ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد اور جیولن تھرو کا کوالیفکیشن راؤنڈ مکمل ہونے کے بعد میرے پاس کچھ وقت باقی تھااس لیے میں نے ٹوکیو شہر میں کچھ گھومنے پھرنے کا فیصلہ کیا۔یہاں میں جیولن تھرو کا کوالیفائنگ راؤنڈ شروع ہونے سے قبل نائجیرین صحافی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا تذکرہ کرتا چلوں ۔ہوا کچھ یوں کہ ارشد ندیم اور باقی اتھلیٹس وارم اپ ایریا میں وارم اپ کررہے تھے میڈیا سینٹر کے مانیٹرز پر ان کا وارم اپ دکھایا جارہا تھا جس پر اس نائیجیرین صحافی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم کی فٹنس کا معیار پہلے والا نہیں ہےاس صحافی کے اس اندازے پر میں حیران ہوا اور میں نے اس دریافت کیا کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے جس پر اس نے مجھے بتایا کہ اس نے ارشد ندیم کو توکیو اولمپکس ،امریکا اور ہنگری کی ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ اور پیرس اولمپکس میں کور کر رکھا ہے اس صحافی نے مجھے ارشد ندیم کی کوالیفائنگ راؤنڈ کے تھرو کے رن اپ اور پیرس اولمپکس فائنل تھرو کے رن اپ کا ویڈیو کے ذریعے موازنہ کرکے دکھایا تاہم میں نے جوابی طور پر اسے بتایا کہ چند ہفتے قبل ارشد ندیم کی سرجری ہوئی ہے اس وجہ سے آپ کو یہ محسوس ہورہا ہے۔ جس وقت ارشدندیم نے فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا تو میڈیا سینٹر سے نکلتے وقت اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ Good luck for Final جس پر میں نے اس کا شکریہ ادا کیا ۔اس روز اٹلی کے 20 سالہ نوجوان متایا فرولانی Mattia FURLANI نے 8.39 میٹر جمپ لگا کر دنیا کے کم عمر ترین لانگ جمپ ورلڈ چیمپئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ فرولانی جب کامیابی کے بعد میڈیا زون میں آئے تو اس نوجوان کی فٹنس اور اس کا اعتماد دیکھ کر اس پر رشک آیا ۔فرولانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کامیابی کے لیے انتہائی محنت کی ہے ۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ صرف 20 سال کی عمر میں دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر چیمپین بن کر کھڑے ہونے کا تجربہ کیسا ہے جس پر اس نوجوان اتھلیٹ نے کہا کہ میں ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن میں اس مقام پر کھڑا ہونے کی تیاری کرکے آیا تھا فرولانی کا کہنا تھا کہ دنیاکے تمام بڑے ایونٹس میں کامیابی حاصل کرنا میرا ہدف ہے ابھی میرے کیرئیر کا آغاز ہے۔ فرولانی کے ساتھ ان کی پوری کوچنگ ٹیم بھی موجود تھی جس سے اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ یہ کتںے پروفیشنل لوگ ہیں ۔ اس روز ویمنز پول والٹ میں امریکا کی کیٹئی مون KatieMOON نے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ مینز 1500 میٹر میں پرتگال کے آئزک نیڈر Isaac NADER نے گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔
کوالفکیشن راؤنڈ کے بعد اسٹیڈیم سے باہر نکل کر کچھ گھومنے پھرنے کا فیصلہ کیا۔ اسٹیڈیم سے نکل کرمیں نے اردو گرد کے ایریاز کی سیر کی ۔اس سیر کے دوران میں نے ایک جگہ پانچ ٹرینوں کو ایک ساتھ گذرتے دیکھا یہ منظر انتہائی دلکش تھا۔ اسی طرح سڑکوں پر تین تین یا چار چار پل اوپر نیچے گزرنا وہاں معمولی بات ہے مگر یہ مناظر ہمارے لیے جاپان کی ترقی کی مثال ہیں۔ ٹوکیو میں کچھ گھوم پر کر میں نے اکھی عبارہ کا رخ کیا یہاں کی الیکٹرونکس مارکیٹ دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ الیکٹرانکس میں جاپان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ استری اور گھڑی سے لے کر الیکٹرانکس کی جدید سے جدید اشیا موجود تھیں۔ یہاں پر بچوں کے لیے الیکٹرانکس کھلونے ہوں یا گھروں میں استعمال کے لیے الیکٹرانکس اشیا موبائل فون ہوں یا پھر لیپ ٹاپس اور کمپیوٹر سب اپنی مثال آپ تھے ۔
اکھی عبارہ سے میری اگلی منزل واپس میڈورینو اسٹیشن تھی ۔ سکوبا لائن پر رات کی آخری ٹرین پکڑ میں میڈورینو اسٹیشن پہنچا تو اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب اور عبد الرحمن میرے منتظر تھے۔ اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب ارشد ندیم کے جیولن تھرو فائنل میں کوالیفائی کرنے پر خاصے خوش اور پرجوش تھے جب ہم گھر پہنچے تو یہاں آج چکن چنے اور چاول کھانے میں تیار تھے انتہائی لذیذ کھانے سے لطف اندوز ہونے کے بعد کافی گپ شپ رہی کچھ پاکستانی باشندے ارشد ندیم کی فائنل میں کامیابی کے لیے دعا گو تھے۔ان پاکستانیوں کی اپنے ملک سے محبت دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے لیے کتنے اہم ہیں ان لوگوں نے اپنے ملک سے ہزاروں میل دور اپنے ملک جیسا ماحول بنارکھا جب آپ ان کے ساتھ بات کریں یا ان کے ساتھ بیٹھک کریں تو آپ کو بالکل احساس نہیں ہوتا کہ آپ اپنے ملک سے باہر ہیں ان لوگوں کے اندر پاکستانیت اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔
(جاری ہے )