بجلی نہ بنانے والی آئی پی پی کمپنیوں کو ادائیگی روکی جائے، ہائی کورٹ میں درخواست

Jun 01, 2026 | 17:16:PM
 بجلی نہ بنانے والی آئی پی پی کمپنیوں کو ادائیگی روکی جائے، ہائی کورٹ میں درخواست
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو آئی پی پی کمپنیوں کو ادائیگیاں کرنے سے روکنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہو گئی۔

ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے آئی پی پیز کی تمام ادائیگیاں عبوری طور پر روکنے کی استدعا  کی گئی ہے۔

درخواست میں ​وفاقی حکومت، نیپرا اور پی پی آئی بی کو  فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست دائر کرنے والی خاتون شہری کا مؤقف ہے کہ  آئی پی پیز کے بجلی بنانے والے  کارخانے نہ چلنے پر بھی ان کمپنیوں کو کھربوں روپے دینا ظلم ہے۔ ​نیپرا کے مطابق عوام سے بجلی کے نام پر 29 کھرب 40 ارب روپے وصول کیے گئے۔ ​عوام سے لیے گئے پیسوں میں سے اصل بجلی کے لیے صرف 11 کھرب 30 ارب روپے دیے گئے۔ ​استعمال نہ ہونے والی بجلی اور بند کارخانوں کو 18 کھرب 10 ارب روپے دیے گئے۔  حکومت صرف اتنی بجلی کے پیسے دے جتنی بجلی عوام تک پہنچائی جائے۔ 

اس درخواست میں  مقامی کمپنیوں کو پاکستانی روپے کے بجائے امریکی ڈالر میں منافع دینے کے عمل کی حیثیت کو جانچنے کے لئے بھی استدعا کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ​  "روپے کے بدلے روپیہ اور ڈالر کے بدلے ڈالر" واپس لیا جائے۔ درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ  پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے فیصلے کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ