فرانسیسی صدر کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان،امریکا اور اسرائیل نےلاپرواہی اور شرمناک قرار دیدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کو مسترد کرتا ہے۔یہ لاپرواہی پر مبنی فیصلہ صرف حماس کے پراپیگنڈے کو تقویت دے گا اور اس سے امن کو دھچکا لگے گا۔
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ حماس کی فتح اور 7 اکتوبر کے متاثرین کے منہ پرتھپڑ ہے، یہ لاپرواہی پر مبنی فیصلہ صرف حماس کے پراپیگنڈے کو تقویت دے گا اور اس سے امن کو دھچکا لگے گا‘‘۔فرانس کے اس دلیرانہ فیصلے نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو برہم کر دیا ہے اور دونوں ممالک نے شدید ردعمل دیا ہے۔اس سے قبل اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے جون میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست امریکا کی خارجہ پالیسی کا ہدف ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسے ”دہشت گردی پر انعام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست اسرائیل کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔اسرائیل وزیر دفاع نے بھی فرانس کے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو ”شرمناک“ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ایمانویل میکرون نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ’فرانس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدرحسین الشیخ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلان کا خیرمقدم کرنے ہوئے فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے تاریخی عزم کے مطابق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ اور انسٹا گرام پر پوسٹ میں لکھا کہ ’میں ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی میں اس کا باضابطہ اعلان کروں گا۔اب تک 142 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں تاہم اسرائیل اور امریکہ اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ فرانس، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والی یورپ کی سب سے اہم طاقت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ عمارہ چوہدری نے کراچی میں اکیلے رہنے کا خوفناک تجربہ شیئر کردیا