سینئر صحافی سید تاثیر مصطفی کےانتقال پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہارِ تعزیت

Dec 24, 2023 | 10:13:AM
سینئر صحافی سید تاثیر مصطفی کےانتقال پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہارِ تعزیت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)لاہور پریس کلب کے لائف ممبر سینئر صحافی سید تاثیر مصطفی قضائے الٰہی سے وفات پا گئے۔

تفصیلات کے مطابق ممتاز صحافی دانشور اور ادیب سید تاثیر مصطفی مختصر علالت کے بعد یہاں انتقال کر گئے وہ کچھ عرصہ سے صاحب فراش تھے اور مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج رہے تاہم طبیعت سنبھل جانے پر گھر منتقل ہو گئے لیکن تین چار روز قبل مختلف بیماریوں نے گھیر لیا ہسپتال پہنچایا گیا جہاں زیر علاج رہنے کے بعد ہفتہ کی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔

ان کی نماز جنازہ آج ڈیڑھ بجے بابری مسجد تاجپور ہ سکیم لاہورمیں ادا کی جائے گی.

وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیراطلاعات عامر میر سمیت مختلف سیاسی سماجی اور صحافتی تنظیموں کے رہنماﺅں نے سید تاثیر مصطفی کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے اور غم زدہ اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مرحوم کے درجات میں بلندی کی دعا کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سید تاثیر مصطفی نے جس دیانتداری اور فرض شناسی سے صحافتی خدمات انجام دیں وہ اس پیشے کے دیگر افراد بالخصوص نئی آنے والوں کے لئے قابل تقلید ہے۔

 وزیرا علی محسن نقوی کا اظہار تعزیت

 وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے غمزدہ خاندان سے اظہارتعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

خیال رہے کہ سید تاثیر مصطفی کا شمار ملک کے ممتاز اخبار نویسوں اور دانشوروں میں ہوتا تھا وہ نظریاتی صحافت کا ایک جانا پہچانا نام تھے کارکن صحافیوں کی مختلف تنظیموں میں صف اول کے رہنما گنے جاتے تھے پنجاب یونین آف جرنلسٹ دستور کے کئی اہم منصب پر فائز رہے ۔

روزنا مہ"جنگ "کے مختلف شعبہ جات اور اہم عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں،اخبار کے سٹی ایڈیٹر کے طور پر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،مرحوم کو ادبی اور صحافتی حلقوں میں خاص مقام حاصل تھا،وہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز میں صحافتی تدریس اور علوم ابلاغیات کے استاد کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے رہے۔مرحوم کے سینکڑوں شاگرد مختلف میڈیا ہاﺅسز میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں ۔

سید تاثیر مصطفی مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ سے بھی وابستہ رہے جبکہ فن صحافت کی مختلف کتابوں کے بھی مصنف تھے۔انہوں نے مختلف جرائد اور رسالوں کی ادارت بھی سنبھالی جبکہ کئی اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے۔