گل پلازہ آتشزدگی: بے ہوشی کی حالت میں نکالے گئے دکاندار کا ہوشربا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران بے ہوش ہونے والے دکاندار زبیر نے آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے ہوشربا انکشاف کیا ہے۔
بے ہوشی کی حالت میں سول ہسپتال لائے گئے دکاندار زبیر نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ جب گل پلازہ میں آگ لگی تو میں بے ہوش ہوگیا تھا، شاپنگ سینٹر کے 26 دروازے ہیں 10 بجے کے بعد 24 دروازے بند تھے۔
زبیر نے بتایا کہ گل پلازہ کے دروازے بند ہوئے تو حالات زیادہ بگڑے جس وقت ہماری دکان میں آگ لگی ہمارے رشتہ دار وہیں موجود تھے، ہماری دکان میں 20 سے زائد افراد موجود تھے، آگ لگی تو اندھیرا اور دھواں بھرنے سے حالت بگڑی۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 26 گیٹ ہیں رات 10 بجے تمام گیٹ بند اور صرف 2 راستے کھلے ہوتے ہیں۔
زبیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شاپنگ سینٹر کی عمارت میں کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا گراؤنڈ فلور پر آگ لگی ہم میز نائن پر تھے، آگ انتہائی تیزی کے ساتھ پھیلی پوری مارکیٹ میں دھواں بھر گیا، میرے ورکرز اور دیگر دکاندار اور شاپنگ کرنے والے افراد جمع تھے، دکان سے باہر نکل کر میں بے ہوش ہوگیا تھا۔
دوسری جانب زبیر کے کزن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت اندر گئے اور اپنے کزن زبیر کو نکالا، ہماری دکان میں 12 سے 15 افراد تھے جس میں خواتین بھی شامل تھیں، دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں مشکلات تھیں۔
زبیر کے کزن نے بتایا کہ دوسرے کزن سے رابطہ کیا تو اس نے ہم سے معافی مانگنا شروع کر دی اور بتایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہم زندہ بچ سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے بہت سے لوگوں کو خود عمارت سے باہر نکالا تھا، کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گرے ہوئے تھے، اللہ سے دعا ہے کہ کم از کم ہمیں لاشیں ہی مل جائیں تاکہ تدفین کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا کوٹ لکھپت جیل سےپی ایم اے ندیم قریشی کو خط