27ویں ترمیم قانون بن گئی،پاکستان کی سیاست پرکیا اثرات مرتب ہونگے؟سلیم بخاری کا دبنگ تجزیہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم بل پر دستخط کر دیئے گئے اور اب 27ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکی ہے، ترمیم کے بعد بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔دوسری جانب سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔اس پر معروف صحافی اور سینئر تجزیہ سلیم بخاری نے اپنی رائےکا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا تو اندازہ لگایا جارہا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ہلچل تو مچے گی اور بہت سارے فیصلے تو ہونگے۔ لیکن اس ترمیم کے فوری بعد دو عدد سینئر ترین ججز صاحبان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ جو مستعفی ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا اپنے استعفے میں جو وجوہات لکھی ہیں وہ یہ ہے ۔
جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ستائیسویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے۔سلیم بخاری نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، 27ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے،انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا،انہوں نے اس کی بھی تردید کی اور کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے بھی کئی ایسے فیصلے کیے جو عدلیہ کی تاریخ میں سیاہ فیصلے تصور ہوتے ہیں۔ ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور، کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا، جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیا گیا ،اس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔
سلیم بخاری نے سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ آپ کی غیرت اگر اتنی ہی جاگ گئی تھی تو وہ 26ترمیم کے ساتھ ہی جاگ جانی چاہیے تھی۔لیکن آپ کو یہ توقع تھی کہ شاید آپ کیلئے کہیں نہ کہیں کوئی گنجائش نکل آئے گی۔اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے کتنی گھناؤنی سازش کی تھی جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ،ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے نکلوا کے خود چیف جسٹس بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضمیر کے متعلق بہت محتاط ہو کر بولنا چاہیے کیوں کہ آدمی کو خود سے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب بے ضمیر ہو گیا ہے۔
کرکٹ جیت گئی ،دہشت گردی ہار گئی۔۔۔سری لنکن ٹیم کا دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ
معروف صحافی نے کہا کہ کرکٹ جیت گئی دہشتگرد ہار گئے ، ہینڈلرز ہار گئے مشرقی اور مغربی دشمن ہار گئے، انہوں نے حوالہ دیا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل جب اسی سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا تو پاکستان کے گراؤنڈطویل عرصہ تک ویران ہو گئے تھے، لیکن اب چیئر مین پی سی بی کی کوششوں سے سری لنکن ٹیم نے دورہ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔انہوں نے محسن نقوی کی سری لنکن کرکٹ ٹیم سے ملاقات کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی اور سری لنکن کرکٹ ٹیم کے درمیان ملاقات 90 منٹ تک جاری رہی۔ محسن نقوی نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان جاری رکھنے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے سری لنکن ٹیم ممبران کے تمام تحفظات دور کیے اور کھلاڑیوں کے ہر ایشو کو بہترین انداز سے حل کیا۔
چیئر مین پی سی بی سری لنکن کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر تمام کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو سپروائز کریں گے۔انہوں نے سری لنکن کھلاڑیوں کی فیملیز کو پاکستان آکر میچز دیکھنے کی دعوت بھی دی جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کیوں کی؟
اس پر سلیم بخاری اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ شے کیا ہے کہیں تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور کہیں وہ اسرائیل کے صدر کو خط لکھ کر انسانیت کے قاتل کو صدارتی معافی کی درخواست کر رہا ہے۔یہ تو اچھی بات ہے کہ اسرائیلی صدر اور پالیمنٹ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔اسی وجہ سے نیتن یاہو نے جنگ کو طول دیا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جس وقت بھی وہ عدالت میں پیش ہونگے ان کو سزا ہو گی۔نیتن یاہو کی وزارت عظمی ٰ تو جائے گی ہی لیکن ساتھ ساتھ ان کا سیاسی کیرئیر بھی ختم ہو جائے گا۔ اس لیے وہ امریکی صدر کے پاوں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح جان خلاصی ہو جائے۔