ایران اسرائیل کشیدگی: ایک نیا عالمی بحران؟
تحریر محمد طیب زاہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
اتوار کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور منعقد ہونے جا رہا تھا، جس سے دو دن قبل اسرائیل کی جانب سے ایران پر بھرپور حملہ بین الاقوامی حلقوں میں شدید سوالات کو جنم دے چکا ہے۔ اس حملے کا وقت انتہائی معنی خیز ہے، کیونکہ اسرائیل نے اس موقع کو چن کر واضح پیغام دیا کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کو صرف سفارتی عمل سے روکنے پر مطمئن نہیں بلکہ وہ ان عزائم کے خلاف فوجی کارروائی کو بھی جواز سمجھتا ہے۔ اسرائیل کے بقول، ایران "جوہری بم بنانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے" اور یہی بنیاد ہے جس پر وہ ان حملوں کو دفاعی قدم قرار دیتا ہے۔
بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جبکہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار سطح 90 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران محض چند ہفتوں میں ایک بم بنانے کے قابل ہو سکتا ہے، اگر اس نے سیاسی فیصلہ کر لیا۔ اسرائیل کے انٹیلیجنس ذرائع کا بھی یہی دعویٰ ہے، کہ "اب وقت ختم ہو چکا ہے"۔ اس تناظر میں اسرائیلی حملہ بظاہر "pre-emptive strike" کی پالیسی کے تحت کیا گیا، یعنی ایران کو اس سے پہلے روکا جائے کہ وہ جوہری ریاست بن جائے۔اب اسرائیل نے حالیہ بیانات میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران کی عسکری طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ایک اہم سوال اس سیاق میں یہ ہے کہ اگر اسرائیل ایران کو محض جوہری قوت بننے کے شبے پر "وجودی خطرہ" سمجھتا ہے، تو کیا وہ پاکستان کو بھی مستقبل میں اسی زمرے میں رکھ سکتا ہے؟ اگرچہ پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ موقف نہیں اپنایا، لیکن خطے میں ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی سوچ میں پاکستان کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔
ادھر عرب دنیا، خاص طور پر سعودی عرب، اس ساری صورتحال میں غیر معمولی حد تک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ فلسطین، لبنان، شام، اور اب ایران جیسے ممالک اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، اور اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا خطے میں کوئی بھی اسلامی ملک اسرائیلی جارحیت سے محفوظ ہے؟ اگر عرب دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، تو "گریٹر اسرائیل" جیسا نظریہ محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بننے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ علاقائی اتحاد کی شدید کمی نے اسرائیل کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنائے۔
چین اس تمام تر معاملے کو بغور دیکھ رہا ہے۔ چین کی ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے، خاص طور پر توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں۔ لیکن ساتھ ہی چین امریکہ اور اسرائیل سے براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ چین نے اسرائیلی حملے پر تشویش کا اظہار ضرور کیا، مگر عملی طور پر ابھی تک کوئی جارحانہ سفارتی قدم نہیں اٹھایا۔ اس تناظر میں اسرائیل اور امریکہ کی شراکت داری چین کی خطے میں موجودگی کے لیے بھی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
جنگی ٹیکنالوجی اس تنازعے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں بیلسٹک میزائلز، ڈرونز اور سائبر ٹیکنالوجی میں خاطر خواہ ترقی کی ہے، لیکن اسرائیل کی ٹیکنالوجی، خاص طور پر امریکی حمایت یافتہ دفاعی نظام جیسے آئرن ڈوم، F-35 جنگی طیارے، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹارگٹنگ، کہیں زیادہ برتر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور کی جنگ میں صرف ہمت یا تعداد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی برتری فتح کا تعین کرتی ہے۔
کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران کو چین، روس اور شمالی کوریا کی حمایت حاصل ہے، اور اگر کشیدگی جاری رہی تو ایک نیا عالمی بلاک سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بلاک مغربی طاقتوں کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر صف بندی ہو گی۔ اگر اس صف بندی نے باقاعدہ عسکری صورت اختیار کی تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے حملے میں ایرانی جنرلز اور نیوکلیئر سائنسدانوں کی بڑی تعداد مارے گئی ہے۔ یہ انٹیلیجنس ناکامی کا ثبوت ہے کہ ایرانی حکام بروقت اپنی حساس شخصیات کو محفوظ نہیں بنا سکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو حملے کی ٹائمنگ اور طریقہ کار ایرانی انٹیلیجنس کے اندازوں سے مختلف تھا، یا ان کے پاس محدود وسائل تھے اپنی قیادت کو انڈر گراؤنڈ کرنے کے لیے۔
اس پوری صورتحال نے عالمی اداروں کی حیثیت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ، IAEA، OIC یا دیگر عالمی ادارے اس سطح کے تنازعے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اگر طاقتور ممالک چاہیں تو عالمی قوانین کو نظر انداز کر کے کمزور پر حملہ کر سکتے ہیں—یعنی ایک طرح سے جنگل کا قانون نافذ ہو چکا ہے۔
اس تنازعے کا سب سے فوری اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا جو پہلے ہی روس-یوکرین جنگ کے اثرات، اور خوراک کی مہنگائی سے نبرد آزما ہے، اب ایران-اسرائیل تنازع کے اثرات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے، تو عالمی معاشی بحالی ایک بار پھر شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔