پالتوشیروں پرپابندی،لاہورمیں لائسنس یافتہ شیرپالنے والے خوفزدہ کیوں؟
صرف اُن کے خلاف شکنجہ سخت کیاجائے جو اصل میں قصور وار ہیں؛’’بنام سرکار‘‘میں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)’’بنام سرکار‘‘ پروگرام لاہور کے علاقہ سبزہ زار میں شیر کے بچے پر حملے کے حوالے سے ریکارڈ کیا گیا۔
پروگرام کے اینکر پرسن زوہیب سلیم بٹ نےلائسنس یافتہ شیر پالنے والے لاہور کے معروف بزنس مین اور ن لیگی ورکر میاں ضیاء ،فیاض احمد اور رامن احمد ضیا ء کیساتھ ریکارڈ کیا ،پروگرام کے ان تینوں مہمانوں کے پاس حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کئے گئے شیر پالنے کے لائسنس موجود ہیں ۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں ضیاء نے بتایا کہ بکر منڈی کے رہائشی یاسرنامی شخص کے پاس بھی شیر موجود ہیں،وہ اپنے شیروں کو چھت سے نیچے اُتار رہے تھے کہ اچانک شیر بے قابو ہوگیا اور بے قابو ہوتے ہی علاقہ کی جانب بھاگا اوربچے پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ، موقع پر وائلڈ لائف کی ٹیم نے پہنچ کر شیر کو قابو کرکے دوسرے مقام پر منتقل کر دیا ۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ کو میاں ضیاء نے مزید بتایا کہ لاہور میں بے شمار لوگوں نے شیروں کو اپنے شوق کی خاطر پال رکھا ہے لیکن بدقسمتی سےنہ اُن کے پاس کوئی لائسنس ہے اور نہ ہی اُن کو شیر پالنے کی کوئی ٹریننگ ہے کہ اس طرح کے پالتو جانور کو رہائشی علاقوں میں کس طرح سے رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے زوہیب سلیم بٹ کومزید بتا یا کہ میں نے بیس سال سے شیروں کو پال رکھا ہے، میرے پاس باقاعدہ بریڈنگ فارمز ہیں اور پنجرے ہیں، میں نے دُنیا بھر کے مختلف ممالک میں جاکر ان کی بریڈنگ کے حوالے سے ورکشاپس بھی لی ہوئی ہیں ، میرے پاس شیر جیسے جانور پالنے کیلئے تمام لائسنس بھی موجود ہیں ۔
لائسنس کے حوالے سے اینکر زوہیب سلیم بٹ کے سوال کہ سرکار نے پہلے آپ سب کو لائسنس جاری کیے تھےاور اب ایک بندے کی غلطی کی وجہ سب کیلئے گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ،میاں ضیا ء نے بتایا کہ میرے پاس اعلیٰ نسل کے شیر موجود ہیں، اگر گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ہم سب شیر وئلڈ لائف کے حوالے کر دیں اور ہمارے لائسنس بھی معطل کر نے ہیں تو اُس کیلئے گورنمنٹ ہمیں ان شیروں کے عوض جو قیمت بنتی ہے وہ ادا کرے لیکن کسی ناسمجھ کی غلطی کی سزا ہم سب کو نہ دیں ۔
پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ کے دوسرے مہمان فیاض احمد نے بتایا کہ میرے پاس بھی لائسنس موجود ہےاس کے باوجودپولیس نےمجھ پرایف آئی آر درج کر دی، پھر میں نے لائسنس دکھاکر کورٹ سے ضمانت لی لیکن ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے، مجھ پر کیوں پرچہ دیا گیا اور میرے شیروں کو کیوں ضبط کیا گیا ہے ؟ ہم نے چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز کا بیان پڑھا جس میں اُنہوں نے لاہور میں تمام شیر ضبط کرنے کا کہا ہے چاہے جن کے پاس لائسنس بھی موجود ہوں ۔

پروگرام کے تیسرے مہمان رامن ضیاء جو میاں ضیا ء کے صاحبزادے ہیں نے اینکر زوہیب سلیم بٹ کو بتا یا کہ سوشل میڈیا بہت اچھی چیز ہے لیکن اس کا استعمال لوگ غلط طریقے سے کرتےہیں ،لاہور میں بہت سے لوگوں نے بغیر ٹریننگ شیروں کو پال رکھا ہے اور اُن کی ویڈیوزبھی بناتے ہیں جبکہ میں نے پی سی ہوٹل میں انگلینڈ سے آئے ڈاکٹروں کی ٹیم سے ٹریننگ لی اور مختلف ورکشاپس بھی اٹینڈ کیں جس میں اُنہوں نے ہمیں شیر جیسے پالتو جانور کو پالنے سے متعلق تمام باتیں بتائیں، اس کے علاوہ شیر کے اچانک حملے کی صورت میں ہمارے پاس ٹرینکوِلائزر گنز بھی موجود ہیں جو وقتی طور پر شیر کو بے ہوش کر دیتی ہے ۔
پروگرام کے اختتام پر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے تینوں مہمانوں سے پوچھا کہ اب آپ حکومت پنجاب سے کیا چاہتے ہیں تومیاں ضیاء نے کہا میرے پاس شیر کو پالنے کیلئے تمام ٹریننگ، لائسنس اور سرٹیفکیٹس موجود ہیں ،میں نے پاکستان اور بیرون ملک بے شمار ورکشاپس لی ہیں اور میں پچھلے بیس سال سے ہر نسل کا شیر پال رکھا ہے، ان کی مالیت کروڑوں میں ہے، ہماری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ کسی دوسرے کی غلطی کی سز ا ہمیں نہ دی جائے بلکہ گورنمنٹ کو چاہیے وہ بجائے ان شیروں کو ضبط کرنے کے ہمیں بتائے کہ ہم ان کومزید کس طرح شہریوں سے بچا سکتےہیں ۔
میا ں ضیاء نے کہا کہ میں مسلم لیگ ن کا ورکر ہوں اور ن لیگ کے جلسوں میں میرے ہی شیر جاتے تھے اور تب بھی اُنہوں نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ نے فیاض احمد سے پوچھا کہ حکومت آپ کیلئے کس طرح آسانی پیدا کرے؟ فیاض احمد نے اینکرزوہیب سلیم بٹ کو جواب دیتے ہوئے کہا میرے پاس بھی لائسنس موجود ہے ،میں نے شیروں کو پنجروں میں رکھا ہوا ہے اور وہ شہری علاقے کی بجائے اپنے فارم ہاؤس پر رکھے ہوئے ہیں جبکہ میرے شیروں نے کسی کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچایا باوجود اُس کے مجھ پر پرچہ دے دیا گیا اور میرے شیروں کو بھی ضبط کرنے کیلئے وئلڈ لائف کی ٹیم وہاں بیٹھی ہے، جو شخص بچےسے لے شیر کو پال کربڑا کرتا ہے وہ شیر اُس کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ اُن کو اپنے مالک کی پہچان ہو جاتی ہے اور وہ کبھی نقصان نہیں پہچا سکتے ۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی پسند کی نمبر پلیٹس؛ گاڑی مالکان کوبڑی خوشخبری مل گئی
رامن علی ضیاء نے اینکر زوہیب سلیم بٹ کو بتایا کہ سوشل میڈیا کی ویڈیوز دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا ہے اور اِنہی لوگوں کی وجہ سے ہمارا شوق بھی برباد ہو رہا ہے، میری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ وہ صرف اُن کے خلاف شکنجہ سخت کرے جو اصل میں قصور وار ہیں ۔ پروگرام ہفتے کی رات 05:08 بج کر سٹی 42پر آن ائیر کیا گیا ۔