سندھ  کے بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز موجود نہ ہونے کا انکشاف 

Aug 31, 2026 | 18:55:PM
سندھ  کے بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز موجود نہ ہونے کا انکشاف 
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ابراہیم رند) وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے حکم پرسندھ بھر کے22 سرکاری ہسپتالوں نے محکمہ صحت سندھ کو فائرسیفٹی رپورٹ جمع کرادی۔

فائر سیفٹی رپورٹ میں کئی بڑے طبی اداروں کا ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، اس کے علاوہ رپورٹ میں بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق سول ہسپتال کراچی کے 180 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، فائر الارم اور سپرنکلرز موجود نہیں۔ جناح ہسپتال میں 208 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، فائر الارم اور سپرنکلرز غائب ہیں،2208 بستروں کے جناح ہسپتال کی الیکٹرک وائرنگ کو مرمت درکارہے۔

ذرائع کے مطابق این آئی سی ایچ میں 135 فائر ایکسٹنگویشرز میں 40 خراب نکلے، 533 بستروں کے این آئی سی ایچ میں فائر الارم موجود نہیں، ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں،این آئی سی ایچ کی الیکٹرک وائرنگ کو بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے،700 بستروں کے لیاری جنرل ہسپتال میں صرف 20 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، ایک الارم موجود ہے،لیاری جنرل ہسپتال میں واٹر سپرنکلرز نہیں، فائر ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔

ذرائع کے مطابق قطر ہسپتال میں صرف 25 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، فائر الارم موجود نہیں،سعود آباد ہسپتال میں 18 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، فائر الارم اور باقاعدہ ڈرلز کا نظام نہیں۔سکھر کے جی ایم ایم سی ہسپتال میں بچوں کے وارڈ کا سیفٹی ایگزٹ کلیئر نہیں، جی ایم ایم سی سکھر میں صرف 20 فائر ایکسٹنگویشرز، الارم اور سپرنکلرز موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول 15، ڈیزل 38روپے مہنگا ،نئی قیمتوں کا اعلان ہو گیا

رپورٹ کے مطابق شہدادپور کے سمس ہسپتال میں صرف 5 فائر ایکسٹنگویشرز، فائر الارم موجود نہیں،لمس حیدرآباد میں 110 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، مگر فائر الارم اور سپرنکلرز غائب ہیں،لمس جامشورو میں 32 فائرایکسٹنگویشرز موجود، فائر الارم اور سپرنکلرز دستیاب نہیں، ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر میں 180 ایکسٹنگویشرز، 45 الارمز اور 39 فائر ہائیڈرنٹس فعال ہیں،کورنگی چلڈرن انسٹیٹیوٹ میں 39 ایکسٹنگویشرز اور 39 فائر بالز فعال، الارم اور ڈرلز بھی کی جاتی ہیں۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ سیہون انسٹیٹیوٹ میں 45 ایکسٹنگویشرز اور 4 فائر الارمز فعال، ڈرلز باقاعدگی سے ہوتی ہیں،سی ایم سی لاڑکانہ کے مختلف بلاکس میں مجموعی طور پر 77 فائر ایکسٹنگویشرز موجود ہیں،جیکب آباد انسٹیٹیوٹ میں 52 فائر ایکسٹنگویشرز فعال، فائر سیفٹی انتظامات تسلی بخش ہیں،ایس ائی یو ٹی۔ این ائی سی وی ڈی کراچی و سکھر، خیرپور میڈیکل کالج اور گمبٹ کا فائر سیفٹی ڈیٹا نامکمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی گرفتار