"مذاکرات" متوازی چینلز سے جاری،  نئی صورتحال میں پاکستان کی کردار مزید اہم ہو گیا

Apr 25, 2026 | 22:19:PM
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ  ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا فریم ورک اختیار کیا ہے۔ پاکستان کی تجویز پر بات چیت اب ثالثوں کے ذریعے جاری ہے، جبکہ عمان اور روس بھی رابطوں کو موثر بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، اور تکنیکی سطح پر مذاکرات متوازی چینلز سے جاری ہیں۔ نئی صورتحال میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔

سفارتی زرائع کا کہنا ہے کہ  ایران اور امریکہ نے ایران میں براہِ راست مذاکرات کے خلاف داخلی ردِعمل کے بعد بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے، یعنی فارمیٹ تبدیل ہوا ہے مگر مکالمہ جاری ہے۔

سفارتی زرائع کے مطابق  ایران نے حکمتِ عملی میں رد و بدل کیا ہے؛ بالواسطہ مذاکرات داخلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے کا ذریعہ ہیں۔

سفارتی ذرائع کا اصرار ہے کہ براہِ راست مذاکرات کی عدم موجودگی ناکامی نہیں بلکہ ایک دانستہ حکمتِ عملی ہے؛ تاریخ میں پیچیدہ تنازعات میں پیش رفت اکثر بالواسطہ رابطوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔ مذاکرات ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، جس سے دونوں فریق سیاسی دباؤ کے بغیر رابطے میں رہتے ہیں جبکہ ماہرین کی سطح پر تکنیکی بات چیت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔

 پاکستان، عمان اور روس کی کثیرالجہتی سہولت کاری ایک مضبوط رابطہ ڈھانچہ تشکیل دے رہی ہے، جو تعطل کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں 

 پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، خود کو ایک پل کے طور پر پیش کرتے ہوئے مکالمے کو ممکن بنا رہا ہے، غیر جانبداری برقرار رکھ رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔

 سفارتکاری کے تعطل کا بیانیہ گمراہ کن ہے؛ مذاکرات فعال، مرحلہ وار اور حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

 مرحلہ وار سفارتکاری دونوں فریقین کو مؤقف جانچنے، اعتماد سازی کرنے اور داخلی دباؤ کو سنبھالنے کا موقع دیتی ہے، قبل اس کے کہ براہِ راست مذاکرات ہوں۔

 یہ سفارتکاری کی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا مذاکراتی فریم ورک ہے، جس میں پاکستان ایک کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مکالمے کو جاری رکھنے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیو وٹکوف اب اسلام آباد نہیں آ رہے، عراقچی کی واپسی کے بعد ٹرمپ کا بیان

یہ بھی پڑھیئے:  جنگ کے متعلق نہیں سوچا، اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف کال کرنا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ