ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس : نواز شریف کی ضمانت میں 26 اکتوبر تک کی توسیع

Oct 24, 2023 | 12:41:PM
ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس : نواز شریف کی ضمانت میں 26 اکتوبر تک کی توسیع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں جمعرات 26 اکتوبر تک کی توسیع کر دی۔

خصوصی بینچ

اسلام آباد ہائیکورٹ کا خصوصی ڈویژن بینچ سابق وزیرعظم پاکستان اور قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کرے گا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے، سماعت عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں ہو گی۔

سیکیورٹی کلیئرنس اور خصوصی پاسز کا اجراء

کمرہ عدالت میں داخلے کے لیے  خصوصی پاسز کا اجراء کیا گیا، پاسز کے بغیر کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، کمرہ عدالت روم 1 کو سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے خالی کروایا گیا۔

لیگی رہنماؤں کی آمد

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں درخواست ضمانت پر سماعت میں شرکت کے لئے لیگی رہنماؤں نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے کا سلسلہ جاری رکھا، سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، چودھری تنویر، حنیف عباسی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے۔

اسحاق ڈار کے گھر قیام

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواستوں پر سماعت کا وقت اڑھائی بجے کا تھا لیکن سماعت میں تاخیر کے باعث قائد مسلم لیگ ن نے منسٹر انکلیو میں اسحاق ڈار کے گھر پر قیام کیا، انہوں نے نمازِ ظہر بھی یہاں ادا کی۔

کارکنان کی نعرے بازی اور گل پاشی

قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد پر لیگی کارکنان نے نعرے بازی کی، نواز شریف گاڑی سے اتر کر احاطہ عدالت میں داخل ہوئی تو کارکنان نے سابق وزیر اعظم پر گل پاشی کی۔

نئی عمارت کی تعریف

نواز شریف نے کمرہ عدالت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت، انٹیریر ڈیزائنگ اور سیٹنگ ایریا کا جائزہ لیا اور انہوں نے پاس بیٹھے اسحاق ڈار سے نئی عمارت کی تعریف کی۔

اشتہاری کا سٹیٹس ختم

 چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت شروع کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ کیا ہے؟ جس پر نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ 2 درخواستیں اپیلیں بحال کرنے کی ہیں ،نیب کورٹ نے اشتہاری کا اسٹیٹس ختم کر دیا ، چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ پہلے درخواستوں سے متعلق بتائیں، اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ عدالت ہماری اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں پہلے سنے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نا ہوئے تو پھر ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ میں دلائل دوں گا عدالت کو مطمئن کرونگا۔

نواز شریف  کیوں اشتہاری ہوئے ؟

اعظم نذیر تارڑ کے درخواستوں سے متعلق دلائل سننےکے بعد جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آپ کی درخواستیں پڑھی ہیں ،جب ڈیکلریشن اس قسم کا دیا جائے تو کیا وہ پھر کہہ سکتا ہے اپیلیں بحال کریں ؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے ؟

چیف جسٹس عامر فاروق نے بھی سوال اٹھایا کہ وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے؟  جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ ایک بات آپ کو کلئیر کر دوں آپ لاء کے مطابق جائیں گے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے سے پہلے کی صورت حال مختلف تھی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 10 اے میں حیات بخش کیس کا فیصلہ بھی ہے۔

نواز شریف کی عدم پیشی کی وجہ 

وکیل صفائی  اعظم نذیر تارڑ نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ نواز شریف جان بوجھ کر غیر حاضر نہیں رہے، وہ عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے، ہم عدالت میں میڈیکل رپورٹس پیش کرتے رہے ہیں۔

دوسری عدالت جانے کا معاملہ

 چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تھا اور دوسری عدالت چلے گئے، نواز شریف کی حراست اس عدالت کے انڈر تھی آپ دوسری عدالت گئے ؟ اعظم نذیر تارڑ نے فاضل جج کو بتایا کہ دوسری عدالت سے ریلیف سے متعلق ہم نے اس عدالت کو آگاہ کیا تھا۔

وکیل صفائی نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کردیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب کی عدالت پیشی

پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور حفاظتی ضمانت کے آڈر میں توسیع کے معاملے پر فاضل جج کو مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں۔

5 سال بعد کیسز میں واپسی

 جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ میں ان کیسز میں پانچ سال بعد واپس آیا ہوں ، 5 سال بعد سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے؟

فاضل ججوں کا پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ

 انہوں نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے اور ان کو چھوڑ دیں، نیب جب کسی چیز کی مخالفت ہی نہیں کر رہا تو پھر اپیلیں کیسی؟ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں۔

شریعی تقاضے

چیف جسٹس عامر فاروق نے بھی استفسار کیا کہ پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ نہیں، ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس نے پھر سے پوچھا کہ کیا نیب کو نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ نہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدالت نے ایک بار پھر سے پوچھا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ گرفتار کرنا چاہتے ہیں ؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ نہیں گرفتار کرنا چاہتے ۔

ضمانت میں توسیع

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے ایک بار پھر طلب کیا کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے؟  نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں،

عدالت نے نواز شریف کی ضمانت میں جمعرات 26 اکتوبر تک توسیع کردی اور نیب کو نوٹس جاری کر دیا۔

واضح رہے کہ عدالت نے آج تک کے لئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔