عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری منتخب نمائندوں کی ہے:علی امین گنڈاپور

Jun 21, 2026 | 18:21:PM
عوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری منتخب نمائندوں کی ہے:علی امین گنڈاپور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 ںیوز )سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عوام نے ووٹ دیا ہے، مسائل کے حل کی ذمہ داری منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے،اگر عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر عوامی خدمت کا عمل جاری رہنا چاہیے، صرف تنقید سے مسائل حل نہیں ہوں گے، عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،جمہوریت میں ووٹ عوام کی طاقت اور تبدیلی کا مؤثر ذریعہ ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، انھوں نے کہا کہ  مسائل کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی میں پوشیدہ ہے۔

 سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانا ہوں گی، کیونکہ مشترکہ کوششوں سے ہی پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے فرائض، مسائل اور چیلنجز کو سمجھنا قومی ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کے بقایاجات خیبرپختونخوا کا آئینی اور قانونی حق ہیں، جن کی ادائیگی کے لیے متعدد بار وفاقی حکومت سے رابطے کیے جا چکے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ این ایچ پی بقایاجات کے مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو مختلف اجلاسوں کے ذریعے اس معاملے کا قابلِ عمل اور دیرپا حل تلاش کرے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے حقوق کو نظرانداز کرنے کے بجائے انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کیے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بقایاجات کی مکمل ادائیگی فوری طور پر ممکن نہیں تو مرحلہ وار ادائیگی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے جائز مطالبات کو مسلسل مسترد کرنا عدم اعتماد کو فروغ دیتا ہے، جبکہ مسائل کے حل کے لیے نیک نیتی، سنجیدگی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کی فراہمی صوبے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے ضروری ہے اور صوبے کے وسائل اور حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

 سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ وسائل اور سہولتوں کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، اور ریاست پر لازم ہے کہ وہ تمام شہریوں کو یکساں مواقع اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی پالیسیوں میں نئے اور پرانے شہریوں دونوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عوام میں احساسِ محرومی اور بے اعتمادی کو جنم دیتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی اور انتظامی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک نہ صرف اجتماعی مسائل کو بڑھاتا ہے بلکہ نظام پر اضافی دباؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے یکساں سہولیات اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

سابق وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ عوام کے جائز حقوق کی بروقت اور منصفانہ فراہمی ہی ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد، ہم آہنگی اور پائیدار استحکام کی بنیاد ہے۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ تاریخی ترقیاتی واجبات سے متعلق مالی معاملات کا واضح، شفاف اور منصفانہ حل ناگزیر ہے، کیونکہ یہ مسئلہ صوبے کے مالی استحکام اور ترقیاتی عمل سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے واجبات کی بروقت ادائیگی اور مالی امور میں شفافیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اربوں روپے کے ترقیاتی واجبات کی عدم ادائیگی سے نہ صرف مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ترقیاتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی سے صوبے کو درپیش مالی چیلنجز میں کمی لائی جا سکتی ہے اور جاری منصوبوں کی تکمیل کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی واجبات کے مسئلے کے حل کے لیے پالیسی سطح پر طویل المدتی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مالی انصاف، شفافیت اور ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کے بغیر ترقیاتی اہداف کا حصول ممکن نہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت نے پیپلزپارٹی کی بجٹ تجاویز کو خندہ پیشانی سے قبول کیا :راجہ پرویز اشرف